LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک کے کئی شہروں میں شدید گرمی کا الرٹ، ہیٹ سٹروک کا خدشہ امریکی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کر دیا: ایرانی نائب وزیر خارجہ مشترکہ مفادات کونسل کے53ویں اجلاس کی تیاریوں کاتفصیلی جائزہ مری میں حکمران جماعت کی اہم بیٹھک، سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت نارووال کو علم کی بستی میں تبدیل کر دیا ہے:احسن اقبال مولانا کا بیان سمجھ سے بالاتر،فوج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں: ملک احمد خان پاکستان کا بڑا اقدام؛ بھارتی رجسٹرڈ اور فوجی طیاروں پر فضائی حدود کی پابندی میں 24 اگست 2026 تک توسیع جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ؛ ہوائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان، فیفا کا ورلڈ کپ فاتح سکواڈ کو پہلی بار ٹرافی و میڈلز کیساتھ خصوصی چیمپئن رنگز دینے کا اعلان پاکستان میں دھکے کے بغیر کوئی چیز نہیں چلتی: خواجہ آصف سوات میں گلیشیئر پھٹ گیا، تین کوہ پیما زخمی، ایک لاپتا ٹرمپ کا ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور، درجنوں طیارے اسرائیل روانہ پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل پر لیوی برقرار، نوٹیفکیشن جاری ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فی صد اضافے کا اعلان امریکی فضا آلودہ کرنے پر کینیڈا کو بھاری ٹیرف ادا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ

سینیٹ کمیٹی خزانہ: سیاسی افراد کے اکاؤنٹس نہ کھلنے پر ذیلی کمیٹی تشکیل

Web Desk

12 March 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے سیاسی افراد کے بینک اکاؤنٹس نہ کھلنے اور اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات کے تناظر میں ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹی اسٹیٹ بینک اور دیگر بینکوں کے ساتھ مل کر معاملات کا جائزہ لے گی اور پائیدار حل تلاش کرے گی۔

اجلاس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی نے کی جبکہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم ڈویژن ورچوئلی شریک ہوئے۔ اجلاس میں سیاسی شخصیات کے اکاؤنٹس کھولنے میں مشکلات، فیملی اور رفقاء کو اس قانون میں شامل کرنے کے اثرات اور بینکنگ نگرانی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی افراد کے بچے آزادانہ طور پر کماتے ہیں تو وہ اس عمل میں کیسے شامل ہوں گے، اور بینکنگ محتسب کی شکایات کے حوالے سے کہا کہ شہریوں کو روزانہ مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون پر نظرثانی ہونی چاہیے کیونکہ اس سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ فیٹف (FATF) کے 40 معیارات پر عمل ضروری ہے، بصورت دیگر پاکستان گرے لسٹ میں جا سکتا ہے، اور آئی ایم ایف بھی اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی پاسداری پر زور دیتا ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے ذیلی کمیٹی کے لیے تین ہفتوں کا وقت تجویز کیا، جبکہ سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ الیکشن لڑنے سے پہلے الیکشن کمیشن کی جانب سے الگ اکاؤنٹ بنانے کی شرط کی وجہ سے اکاؤنٹ کھلوانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ذیلی کمیٹی اس مسئلے کے حل کے لیے اسٹیٹ بینک اور بینکوں سے تفصیلی معلومات حاصل کرے گی تاکہ سیاسی شخصیات کے اکاؤنٹس کھلانے میں موجودہ رکاوٹوں کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔