LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ملک کے کئی شہروں میں شدید گرمی کا الرٹ، ہیٹ سٹروک کا خدشہ امریکی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کر دیا: ایرانی نائب وزیر خارجہ مشترکہ مفادات کونسل کے53ویں اجلاس کی تیاریوں کاتفصیلی جائزہ مری میں حکمران جماعت کی اہم بیٹھک، سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت نارووال کو علم کی بستی میں تبدیل کر دیا ہے:احسن اقبال مولانا کا بیان سمجھ سے بالاتر،فوج کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں: ملک احمد خان پاکستان کا بڑا اقدام؛ بھارتی رجسٹرڈ اور فوجی طیاروں پر فضائی حدود کی پابندی میں 24 اگست 2026 تک توسیع جیٹ فیول کی قیمت میں 40 روپے 35 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ؛ ہوائی سفر مزید مہنگا ہونے کا امکان، فیفا کا ورلڈ کپ فاتح سکواڈ کو پہلی بار ٹرافی و میڈلز کیساتھ خصوصی چیمپئن رنگز دینے کا اعلان پاکستان میں دھکے کے بغیر کوئی چیز نہیں چلتی: خواجہ آصف سوات میں گلیشیئر پھٹ گیا، تین کوہ پیما زخمی، ایک لاپتا ٹرمپ کا ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن پر غور، درجنوں طیارے اسرائیل روانہ پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل پر لیوی برقرار، نوٹیفکیشن جاری ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فی صد اضافے کا اعلان امریکی فضا آلودہ کرنے پر کینیڈا کو بھاری ٹیرف ادا کرنا ہوگا، صدر ٹرمپ

امریکی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد معطل کر دیا: ایرانی نائب وزیر خارجہ

Web Desk

18 July 2026

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر عملدرآمد فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ امریکی حملوں کے بعد ایران نے یہ سخت قدم اٹھایا ہے کیونکہ امریکا مسلسل معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور مذاکرات کے جاری عمل کے دوران بھی وعدے توڑتے ہوئے جارحانہ اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو اس کی نیت کا ایک بار پھر دوٹوک جواب مل رہا ہے اور اس وقت ایران کی تمام تر توجہ اپنے ملک کے دفاع پر مرکوز ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران سنجیدگی کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک تھا، تاہم امریکی یکطرفہ اقدامات نے باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران کے اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی کشیدگی میں مزید خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔