LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز حادثے کا شکار شالیمار ایکسپریس کی بوگیاں ٹریک پر لگا دی گئیں، ٹرینوں کی آمدورفت بحال روس اور شمالی کوریا کو ملانے والے نئے پل کا افتتاح کردیا گیا مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک شامل ہوسکتے ہیں: سرگئی لاوروف پرنس بہاول عباسی کا بہاولپور صوبہ بحالی تحریک شروع کرنے کا اعلان مریم نواز کے بیان کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی: عظمیٰ بخاری جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا ایران امریکا جنگ: یو اے ای نے متبادل تجارتی راستے بنانے شروع کردیے

معرکۂ حق’ کا ایک سال مکمل: پاکستان کی سفارتی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا، رضوان سعید شیخ

Web Desk

11 May 2026

امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے ‘معرکۂ حق’ کے ایک سال مکمل ہونے پر اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں اپنی دفاعی، سفارتی اور سیاسی حکمتِ عملی کی بنیاد پر استحکام کے ایک اہم عامل کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس معرکے کے بعد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی قدر و منزلت اور سفارتی ساکھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی سفیر نے پہلگام واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فوری طور پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ اس کے برعکس بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے الزامات عائد کیے اور غیر قانونی جارحیت کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسلسل عالمی برادری کو خبردار کرتا رہا ہے کہ جوہری صلاحیت رکھنے والے اس خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

رضوان سعید شیخ کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت کے باوجود پاکستان نے سیاسی، سفارتی اور عسکری پختگی کا مظاہرہ کیا، جس سے قومی وقار بلند ہوا۔ انہوں نے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان کے دفاعی اخراجات بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہیں، لیکن ہماری اصل طاقت دفاعی صلاحیت، قومی عزم اور عوام کی قوتِ اخوت ہے۔ انہوں نے قیامِ امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے فعال کردار کو بھی سراہا، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔