LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز حادثے کا شکار شالیمار ایکسپریس کی بوگیاں ٹریک پر لگا دی گئیں، ٹرینوں کی آمدورفت بحال روس اور شمالی کوریا کو ملانے والے نئے پل کا افتتاح کردیا گیا مکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک شامل ہوسکتے ہیں: سرگئی لاوروف پرنس بہاول عباسی کا بہاولپور صوبہ بحالی تحریک شروع کرنے کا اعلان مریم نواز کے بیان کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی: عظمیٰ بخاری جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا ایران امریکا جنگ: یو اے ای نے متبادل تجارتی راستے بنانے شروع کردیے

ایران امریکا جنگ: یو اے ای نے متبادل تجارتی راستے بنانے شروع کردیے

Web Desk

7 September 2026

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی حالات کے پیشِ نظر اپنی توانائی برآمدات اور معاشی سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے متبادل تجارتی راستوں کی تیاری پر کام شروع کر دیا ہے۔ یو اے ای کے صدارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ ابوظہبی اپنی اقتصادی سرگرمیوں کو خطے میں جنگ اور تنازعات کا یرغمال نہیں بننے دے گا۔ اس سلسلے میں ملک کے مشرقی ساحلی علاقوں میں واقع بندرگاہوں کی صلاحیت و گنجائش میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ ایندھن کی نقل وحمل کے لیے نئی پائپ لائنز، ریلوے نیٹ ورک اور دیگر متبادل بحری و بَرّی راستے تعمیری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

انور قرقاش نے خلیجی ممالک کی جانب سے ایرانی اقدامات کے خلاف اجتماعی اور مشترکہ ردعمل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کی ریاستیں درپیش خطرات کا ادراک رکھنے کے باوجود ایک متحد اور مؤثر حکمتِ عملی بنانے میں ناکام رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنے ہمسایہ خلیجی ممالک کا اعتماد بحال کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، تاہم سفارتی سطح پر معاملات بہتر ہونے پر معمول کے تعلقات کی بحالی ممکن ہے۔ صدارتی مشیر نے یاد دہانی کرائی کہ متحدہ عرب امارات نے سلامتی اور اقتصادی تحفظ کے پیشِ نظر رواں برس اگست میں ایران کے ساتھ تمام مالی اور اقتصادی لین دین بھی معطل کر دیا تھا۔