LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو امریکی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے: ایران کا دو ٹوک مؤقف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگئی امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز

روس اور شمالی کوریا کو ملانے والے نئے پل کا افتتاح کردیا گیا

Web Desk

7 September 2026

روس اور شمالی کوریا کے درمیان زمینی رابطے کو تیز اور مضبوط بنانے کے لیے نئے سڑک پل (روڈ برج) کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے، جسے دونوں ممالک نے اپنی مستحکم ہوتی اسٹریٹجک شراکت داری میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تاس’ کے مطابق دونوں ممالک کی سرحد پر واقع دریائے تومن (Tumen River) پر تعمیر کیا گیا یہ پل دوطرفہ زمینی نقل و حمل اور تجارتی آمدورفت میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یہ نیا پل 1959ء میں کورین جنگ کے بعد فعال ہونے والے قدیم ‘فرینڈشپ ریلوے برج’ کے قریب ہی تعمیر کیا گیا ہے۔

روسی وزیراعظم میخائل مشوستن نے افتتاح کے موقع پر کہا کہ اس نئے زمینی راستے سے سیاحت، سرحد پار تجارت اور لاجسٹکس کے شعبوں میں تعاون کو فروغ ملے گا جس سے خطے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس منصوبے پر سالہا سال کی بات چیت کے بعد صدر ولادی میر پیوٹن کے جون 2024ء میں شمالی کوریا کے دورے کے دوران حتمی اتفاق ہوا تھا، جس کے بعد اپریل 2025ء میں باقاعدہ تعمیراتی کام شروع کیا گیا۔ یاد رہے کہ 2022ء میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے ماسکو اور پیانگ یانگ کے تعلقات میں بے پناہ قربت آئی ہے اور شمالی کوریا نے 2024ء میں روسی عسکری مہم کی مدد کے لیے ہزاروں فوجی بھی روانہ کیے تھے۔