LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری، نیچرل گیس معمولی مہنگی پوتن نے روسی تیل پر مغربی پرائس کیپ مسترد، برآمدی پابندی 2027 کے آخر تک بڑھا دی روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ امریکا کا ایران حملوں میں بربادی کے بعد عرب ممالک سے اپنے اڈے منتقل کرنے کا فیصلہ این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ جاری نیویارک,یومِ عاشور کی مجلسِ عزا:ظہران ممدانی کی شرکت,امام حسینؓ کو خراجِ عقیدت ایران نے پڑوسی ممالک میں موجود اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا جاپان کا ایران، لبنان اور فلسطین کیلئے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان روس کا یوکرین کے 660 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ حزب اللہ کا لبنان سے اسرائیل کے مکمل انخلا تک ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان ایران جنگ میں پاکستان کا کردار قیامت تک یاد رکھا جائے گا: خواجہ آصف امریکا ایران معاہدے کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی: سربراہ آئی اے ای اے واٹس ایپ نے صارفین کیلئے جدید حفاظتی فیچر متعارف کرا دیا برطانوی بادشاہ چارلس بکنگھم پیلس میں کیوں نہیں رہیں گے؟

حقیقی ’پائریٹس آف دی کیریبیئن‘ کا شکار بنے جہاز کی باقیات دریافت

Web Desk

6 June 2026

ناساؤ/لندن: برطانوی غوطہ خوروں نے بہاماس کے سمندر کی تہہ سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے لگ بھگ 300 برس قبل حقیقی ‘پائریٹس آف دی کیریبیئن’ (سمندری قزاقوں) کے حملوں کے نتیجے میں غرق ہونے والے بحری جہازوں کے ملبے دریافت کر لیے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ بحری جہاز تاریخ کے خطرناک ترین اور سفاک قزاقوں ‘بلیک بیئرڈ’ اور ‘کیلیکو جیک ریکھم’ کے حملوں کی وجہ سے سمندر برد ہوئے تھے، جنہوں نے 1690 کی دہائی سے لے کر 1720 کی دہائی تک کیریبیئن کے سمندروں پر بے تاج راج کیا تھا۔

اپنی نوعیت کی اس پہلی اور منفرد سمندری مہم کے دوران بہاماس بے کی تہہ سے جہازوں کی چھ ناقابلِ یقین باقیات سامنے آئی ہیں دریافت ہونے والے ملبوں میں سے تین بحری جہازوں کا تعلق براہِ راست ’قزاقوں کے سنہرے دور‘ سے پایا گیا ہے۔یہ وہ دور تھا جب یہ قزاق تجارتی اور مال بردار جہازوں پر اچانک حملہ کرتے، ان کا قیمتی سامان لوٹتے اور پھر ثبوت مٹانے کے لیے جہازوں کو آگ لگا کر سمندر کی تہہ میں غرق کر دیتے تھے۔

دریافت ہونے والے ملبے میں سے سب سے اہم سراغ مشہور قزاق بادشاہ ہنری ایوری کے ایک بڑے حملے سے ملتا ہے۔ تاریخ کے مطابق ہنری ایوری نے ایک بڑے مال بردار جہاز سے سونا اور چاندی لوٹنے کے بعد اسے ناساؤ کے ساحل کے قریب آگ لگا کر ڈبو دیا تھا۔

اسی طرح ہنری ایوری کے زیرِ استعمال ’فینسی‘ نامی 46 توپوں والے جہاز کی لوٹ مار کو دنیا کی سب سے بڑی سمندری ڈکیتی شمار کیا جاتا ہے۔ اس نے ایک جہاز سے ہیرے، سونا اور نیلم پر مشتمل وہ تاریخی خزانہ لوٹا تھا جس کی مالیت آج کے حساب سے تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ (پاکستانی کرنسی میں 3 ارب 15 کروڑ روپے سے زیادہ) بنتی ہے۔

برطانوی سمندری ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر شان کنگزلی اور بہاماس کے ڈاکٹر مائیکل پیٹمین کی سربراہی میں کام کرنے والی مشترکہ تحقیقی ٹیم کا قوی خیال ہے کہ شاید انہیں اسی تاریخی جہاز کے جلے ہوئے بقایاجات مل چکے ہیں۔ یہ جلے ہوئے ملبے نیو پروویڈنس جزیرے پر واقع قزاقوں کے اُس دور کے مشہور ٹھکانے ‘ناساؤ’ کے اطراف سمندر کی تہہ میں بکھرے ہوئے پائے گئے ہیں۔

مہم جو ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لیبارٹری ٹیسٹ اور مینوئل شواہد کے بعد یہ دریافت سو فیصد درست ثابت ہوتی ہے، تو یہ دنیا بھر میں قزاقوں کی تاریخ کی اب تک کی سب سے سنسنی خیز اور بڑی دریافت ہوگی، کیونکہ اس کا تعلق اُس افسانوی خزانے سے ہے جس نے ہنری ایوری کو رہتی دنیا تک تاریخ کا امیر اور مشہور ترین قزاق بنا دیا تھا۔