LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہلی کے سابق چیف سیکرٹری نے خودکشی کرلی حکومت کی 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری لانگ مارچ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دے دیا، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کل طلب یمن سے سعودیہ پر حملوں سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا: خواجہ آصف مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ریاست ٹیکساس میں سوشل سٹڈیز کے متنازعہ تعلیمی نصاب کی منظوری، اسلام سے متعلق نصابی تبدیلیوں پر شدید تنقید امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل

بھیڑوں کو بھیڑیوں سے بچانے کا انوکھا طریقہ

Web Desk

24 June 2026

آسٹریا کے ایک موجد نے مویشیوں پر بھیڑیوں کے بڑھتے ہوئے جان لیوا حملوں سے نمٹنے کے لیے بھیڑوں کو پہنانے واسطے ایک انتہائی منفرد زرہ (بکتر) تیار کر لی ہے۔ تاہم، کسانوں کی جانب سے اس اچھوتی ایجاد کو قائل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے اور اسے عوام کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جنوبی آسٹریا کے شہر وِیلاک سے تعلق رکھنے والے موجد رُڈولف شاؤباخ نے بتایا کہ انہیں یہ انوکھا الائنمنٹ بنانے کا خیال آسٹریا اور جرمنی کے پہاڑی علاقوں میں بھیڑیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو دیکھ کر آیا۔ تقریباً تین سال کی مسلسل محنت اور سائنسی ریسرچ کے بعد انہوں نے ایک ایسا کامیاب پروٹوٹائپ (ماڈل) تیار کیا ہے جسے حال ہی میں آسٹریائی الپس کے مختلف فارموں پر تجرباتی طور پر آزمایا گیا۔

موجد کے مطابق ان کا بنیادی مقصد ایک ایسی حفاظتی ڈھال بنانا تھا جو بھیڑوں کی گردن اور جسم کو بھیڑیوں کے خطرناک اور تیز دانتوں سے محفوظ رکھ سکے۔ اس ڈیزائن کی خاص بات یہ ہے کہ اسے پہن کر جانور آسانی سے ہرا چارہ چر بھی سکتے ہیں اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت بھی بالکل برقرار رہتی ہے۔ اس حفاظتی جیکٹ کو بنانے کے لیے انہوں نے ہلکے مگر انتہائی مضبوط پلاسٹک کے جال پر نوکیلے کانٹے (Spikes) نصب کیے ہیں، جو کسی بھی حملہ آور بھیڑیے کو کاٹنے کی صورت میں شدید تکلیف پہنچا کر دوبارہ حملہ کرنے سے فوری روک دیتے ہیں۔

“بھیڑیا ایک انتہائی ذہین اور مکار جانور ہے۔ اگر اسے اپنے شکار کو پہلی بار کاٹنے پر شدید جسمانی تکلیف یا چوٹ پہنچے، تو وہ اپنے دفاعی مائنڈ سیٹ کے باعث دوبارہ اسی شکار پر حملہ کرنے سے ہمیشہ گریز کرے گا۔

رُڈولف کی اس انوکھی ایجاد کو مارکیٹ میں کسانوں اور لائیو سٹاک کے ماہرین کی جانب سے کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی، بلکہ اس پر درج ذیل وجوہات کی بنا پر سخت اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں: ناقدین کا کہنا ہے کہ بھیڑوں کے لیے یہ ہائی ٹیک ’چین میل‘ (لوہے یا پلاسٹک کا لباس) نہ صرف بے حد مہنگا ہے بلکہ سینکڑوں مویشیوں کے ریوڑ کے لیے یہ بالکل غیر عملی حل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بات کی کوئی حتمی سائنسی ضمانت موجود نہیں کہ یہ زرہ واقعی بھیڑیوں کے طاقتور حملوں اور ان کی سٹریٹجک صوابدید کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا سکے گی۔

اگرچہ دنیا بھر میں بھیڑیوں اور مویشی پال کسانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے زمینی تنازعات کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک فینسنگ اور دیگر حفاظتی اقدامات پر کام تیزی سے جاری ہے، لیکن فی الحال بھیڑوں کی یہ نوکیلی ’زرہ بکتر‘ کسان برادری کو اپنا گرویدہ بنانے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔