LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیفا ورلڈ کپ کے ابتدائی دو راؤنڈز میں 5 ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر پیشگوئی کرتا ہوں اگلا بجٹ شہباز حکومت پیش نہیں کرے گی، سہیل آفریدی یورپ شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں,فرانس میں 40 افراد جاں بحق، کئی ممالک میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان پاکستان کی پرو ہاکی لیگ میں لگاتار 14ویں شکست، انگلینڈ نے بھی ہرا دیا خیبر پختونخوا فنانس بل میں نئے ٹیکس عائد، جرمانوں میں بڑا اضافہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے نئے مالی سال کا 2170 ارب کا بجٹ منظور کر لیا گورنر تبوک کا شہباز شریف سے رابطہ، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا پاکستان اور ایران کی امنگیں اور مقاصد مشترکہ ہیں، ایرانی صدر پزشکیان غزہ استحکام فورس: مراکش کا فوجی دستہ اسرائیل پہنچ گیا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کریں گے، بلاول بھٹو وزیراعظم کی حج 2026 کے منتظمین کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں حکومت کا پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ پر کنٹرول مزید مضبوط، شیئر ہولڈنگ میں اضافہ فیلڈ مارشل سے لیبیا کے نائب کمانڈر انچیف کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے پر زور

بھیڑوں کو بھیڑیوں سے بچانے کا انوکھا طریقہ

Web Desk

24 June 2026

آسٹریا کے ایک موجد نے مویشیوں پر بھیڑیوں کے بڑھتے ہوئے جان لیوا حملوں سے نمٹنے کے لیے بھیڑوں کو پہنانے واسطے ایک انتہائی منفرد زرہ (بکتر) تیار کر لی ہے۔ تاہم، کسانوں کی جانب سے اس اچھوتی ایجاد کو قائل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے اور اسے عوام کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جنوبی آسٹریا کے شہر وِیلاک سے تعلق رکھنے والے موجد رُڈولف شاؤباخ نے بتایا کہ انہیں یہ انوکھا الائنمنٹ بنانے کا خیال آسٹریا اور جرمنی کے پہاڑی علاقوں میں بھیڑیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو دیکھ کر آیا۔ تقریباً تین سال کی مسلسل محنت اور سائنسی ریسرچ کے بعد انہوں نے ایک ایسا کامیاب پروٹوٹائپ (ماڈل) تیار کیا ہے جسے حال ہی میں آسٹریائی الپس کے مختلف فارموں پر تجرباتی طور پر آزمایا گیا۔

موجد کے مطابق ان کا بنیادی مقصد ایک ایسی حفاظتی ڈھال بنانا تھا جو بھیڑوں کی گردن اور جسم کو بھیڑیوں کے خطرناک اور تیز دانتوں سے محفوظ رکھ سکے۔ اس ڈیزائن کی خاص بات یہ ہے کہ اسے پہن کر جانور آسانی سے ہرا چارہ چر بھی سکتے ہیں اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت بھی بالکل برقرار رہتی ہے۔ اس حفاظتی جیکٹ کو بنانے کے لیے انہوں نے ہلکے مگر انتہائی مضبوط پلاسٹک کے جال پر نوکیلے کانٹے (Spikes) نصب کیے ہیں، جو کسی بھی حملہ آور بھیڑیے کو کاٹنے کی صورت میں شدید تکلیف پہنچا کر دوبارہ حملہ کرنے سے فوری روک دیتے ہیں۔

“بھیڑیا ایک انتہائی ذہین اور مکار جانور ہے۔ اگر اسے اپنے شکار کو پہلی بار کاٹنے پر شدید جسمانی تکلیف یا چوٹ پہنچے، تو وہ اپنے دفاعی مائنڈ سیٹ کے باعث دوبارہ اسی شکار پر حملہ کرنے سے ہمیشہ گریز کرے گا۔

رُڈولف کی اس انوکھی ایجاد کو مارکیٹ میں کسانوں اور لائیو سٹاک کے ماہرین کی جانب سے کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی، بلکہ اس پر درج ذیل وجوہات کی بنا پر سخت اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں: ناقدین کا کہنا ہے کہ بھیڑوں کے لیے یہ ہائی ٹیک ’چین میل‘ (لوہے یا پلاسٹک کا لباس) نہ صرف بے حد مہنگا ہے بلکہ سینکڑوں مویشیوں کے ریوڑ کے لیے یہ بالکل غیر عملی حل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بات کی کوئی حتمی سائنسی ضمانت موجود نہیں کہ یہ زرہ واقعی بھیڑیوں کے طاقتور حملوں اور ان کی سٹریٹجک صوابدید کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا سکے گی۔

اگرچہ دنیا بھر میں بھیڑیوں اور مویشی پال کسانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے زمینی تنازعات کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک فینسنگ اور دیگر حفاظتی اقدامات پر کام تیزی سے جاری ہے، لیکن فی الحال بھیڑوں کی یہ نوکیلی ’زرہ بکتر‘ کسان برادری کو اپنا گرویدہ بنانے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔