بھیڑوں کو بھیڑیوں سے بچانے کا انوکھا طریقہ
Web Desk
24 June 2026
آسٹریا کے ایک موجد نے مویشیوں پر بھیڑیوں کے بڑھتے ہوئے جان لیوا حملوں سے نمٹنے کے لیے بھیڑوں کو پہنانے واسطے ایک انتہائی منفرد زرہ (بکتر) تیار کر لی ہے۔ تاہم، کسانوں کی جانب سے اس اچھوتی ایجاد کو قائل کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے اور اسے عوام کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جنوبی آسٹریا کے شہر وِیلاک سے تعلق رکھنے والے موجد رُڈولف شاؤباخ نے بتایا کہ انہیں یہ انوکھا الائنمنٹ بنانے کا خیال آسٹریا اور جرمنی کے پہاڑی علاقوں میں بھیڑیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو دیکھ کر آیا۔ تقریباً تین سال کی مسلسل محنت اور سائنسی ریسرچ کے بعد انہوں نے ایک ایسا کامیاب پروٹوٹائپ (ماڈل) تیار کیا ہے جسے حال ہی میں آسٹریائی الپس کے مختلف فارموں پر تجرباتی طور پر آزمایا گیا۔
موجد کے مطابق ان کا بنیادی مقصد ایک ایسی حفاظتی ڈھال بنانا تھا جو بھیڑوں کی گردن اور جسم کو بھیڑیوں کے خطرناک اور تیز دانتوں سے محفوظ رکھ سکے۔ اس ڈیزائن کی خاص بات یہ ہے کہ اسے پہن کر جانور آسانی سے ہرا چارہ چر بھی سکتے ہیں اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت بھی بالکل برقرار رہتی ہے۔ اس حفاظتی جیکٹ کو بنانے کے لیے انہوں نے ہلکے مگر انتہائی مضبوط پلاسٹک کے جال پر نوکیلے کانٹے (Spikes) نصب کیے ہیں، جو کسی بھی حملہ آور بھیڑیے کو کاٹنے کی صورت میں شدید تکلیف پہنچا کر دوبارہ حملہ کرنے سے فوری روک دیتے ہیں۔
“بھیڑیا ایک انتہائی ذہین اور مکار جانور ہے۔ اگر اسے اپنے شکار کو پہلی بار کاٹنے پر شدید جسمانی تکلیف یا چوٹ پہنچے، تو وہ اپنے دفاعی مائنڈ سیٹ کے باعث دوبارہ اسی شکار پر حملہ کرنے سے ہمیشہ گریز کرے گا۔
رُڈولف کی اس انوکھی ایجاد کو مارکیٹ میں کسانوں اور لائیو سٹاک کے ماہرین کی جانب سے کوئی خاص پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی، بلکہ اس پر درج ذیل وجوہات کی بنا پر سخت اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں: ناقدین کا کہنا ہے کہ بھیڑوں کے لیے یہ ہائی ٹیک ’چین میل‘ (لوہے یا پلاسٹک کا لباس) نہ صرف بے حد مہنگا ہے بلکہ سینکڑوں مویشیوں کے ریوڑ کے لیے یہ بالکل غیر عملی حل ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بات کی کوئی حتمی سائنسی ضمانت موجود نہیں کہ یہ زرہ واقعی بھیڑیوں کے طاقتور حملوں اور ان کی سٹریٹجک صوابدید کو مؤثر طریقے سے ناکام بنا سکے گی۔
اگرچہ دنیا بھر میں بھیڑیوں اور مویشی پال کسانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے زمینی تنازعات کے حل کے لیے جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک فینسنگ اور دیگر حفاظتی اقدامات پر کام تیزی سے جاری ہے، لیکن فی الحال بھیڑوں کی یہ نوکیلی ’زرہ بکتر‘ کسان برادری کو اپنا گرویدہ بنانے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔
متعلقہ عنوانات
رابن ہُڈ کے پناہ گزین درخت کی عمر پوری ہوگئی
24 June 2026
چاکلیٹ کھائیں، موبائل سے جان چھڑائیں! کِٹ کیٹ نے منفرد ریپر متعارف کرا دیا
24 June 2026
چین میں ریچھ بننے کی نوکری، سالانہ 41 لاکھ روپے تنخواہ کا اعلان
23 June 2026
ٹیکساس میں ٹرک الٹنے سے 20 لاکھ شہد کی مکھیاں آزاد
23 June 2026
’جاپانی مرد صرف سٹیڈیم نہیں، گھر کی صفائی بھی کریں‘ خواتین کا مشورہ
22 June 2026
پنجاب کا ایسا شہر جہاں کھیتوں سے سات فٹ سے زائد لمبے تین سانپ برآمد
22 June 2026
بلند آواز میں چیخنے کا ریکارڈ آسٹریلوی شہری کے نام
20 June 2026
نیدرلینڈز: شیاطین کو بلانے کیلئے جادوئی منتر لکھی پراسرار تختی دریافت
20 June 2026