LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہمارے اثاثوں کو نشانہ بنایا تو امریکی اثاثے بھی محفوظ نہیں رہیں گے: ایران کا دو ٹوک مؤقف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگئی امریکی معاشی جنگ صرف ایران نہیں پوری عالمی برادری کیخلاف ہے: اسماعیل بقائی برنہم اور ٹرمپ کا روس یوکرین جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق عوامی ریفرنڈم کسی وزیر کے بیان سے نہیں ہوگا: رانا ثنا اللہ پی ٹی آئی کے احتجاج و لانگ مارچ کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر نئے صوبے بننے چاہئیں، باؤنڈری کا تعین عوام کرے گی: کیپٹن (ر) صفدر عوام پر مہنگائی کا نیا وار! پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دھرنے اپنی ذات نہیں، عوامی حقوق کے لیے دے رہے ہیں: حافظ نعیم الرحمان اسحاق ڈار کا کویتی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر گفتگو حوثیوں کا 24 گھنٹوں میں سعودی عرب کا تیسرا ڈرون مار گرانے کا دعویٰ اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان امریکی بحری جہازوں کیلئے خطے میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی: ایران امریکی کوریڈور سے گزرنا مشکل، بحری جہاز ایران کے مقررہ راستوں سے گزریں: پاسداران انقلاب جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز

روس: شاپنگ سینٹر میں اِن ڈور فشنگ تالاب کا منصوبہ

Web Desk

26 June 2026

عام طور پر کھلی فضا میں کی جانے والی ماہی گیری (Fishing) کی سرگرمی کو اب ایک نئے اور منفرد انداز میں متعارف کرانے کے لیے روسی دارالحکومت ماسکو کا ایک شاپنگ سینٹر دنیا کا پہلا انڈور فِشنگ تالاب بنانے جا رہا ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ مصنوعی تالاب 10 بائی 3 میٹر کے رقبے پر محیط ہوگا، جس میں کارپ، کروشین کارپ، ٹینچ، بریم، پرچ، کیٹ فش اور روڈ سمیت مختلف اقسام کی مچھلیاں رکھی جائیں گی اور ایک وقت میں 16 افراد کو اس تالاب سے ماہی گیری کرنے کی سہولت میسر ہوگی۔ انتظامیہ کی جانب سے فِشنگ راڈز اور چارہ موقع پر ہی فراہم کیا جائے گا، جبکہ پانی کے اندر مچھلیوں کی نقل و حرکت کو کیمروں کے ذریعے ایک بڑی اسکرین پر بھی لائیو دکھایا جائے گا۔

منصوبہ سازوں کے مطابق شاپنگ سینٹر کے اندر یہ انڈور فِشنگ پوائنٹ ایک مخصوص ’نیچر آئی لینڈ‘ کی طرح ڈیزائن کیا جائے گا، جہاں پرندوں کی چہچہاہٹ اور مینڈکوں کی آوازوں کے ساتھ ایک پرسکون قدرتی ماحول تخلیق کیا جائے گا تاکہ خریدار خریداری کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کا لطف اٹھا سکیں۔ اگرچہ اس سہولت کے باقاعدہ آغاز کی تاریخ اور فیس کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم بعض رپورٹس کے مطابق یہ سرگرمی مفت بھی ہو سکتی ہے۔ اس سرگرمی کے تحت ایک بنیادی شرط یہ رکھی جائے گی کہ پکڑی گئی مچھلیوں کو واپس تالاب میں چھوڑنا ہوگا، اور اس کے بدلے شرکاء کو مخصوص پوائنٹس دیے جائیں گے جنہیں وہ شاپنگ سینٹر کے اندر مختلف اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ دوسری جانب، جہاں منتظمین اسے ایک ماحول دوست تفریحی منصوبہ قرار دے رہے ہیں، وہیں جانوروں کے حقوق کے کارکنان نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صبح سے شام تک تفریح کے لیے مسلسل مچھلیاں پکڑنا اور انہیں واپس چھوڑنا ان جانداروں کے لیے شدید ذہنی اور جسمانی تکلیف کا باعث بنے گا۔