LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کا افتتاح کر دیا سپریم کورٹ کا بانی کے علاج سے متعلق تحریری فیصلہ جاری، میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’نیا امریکی علاقہ‘ قرار دے دیا، ایران کا شدید ردعمل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، کاروبار کا منفی رجحان رہا پاکستان اور روس کے درمیان کلیدی شعبوں میں تعاون اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق سپریم کورٹ کا فیصلہ شاندار اور تاریخی، سیاسی بے چینی ختم ہوگی: شیخ رشید عدالتی حکم پر مکمل عمل، بانی کی صحت پر سیاست نہیں کریں گے: پی ٹی آئی اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے: عباس عراقچی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم وزیراعظم کی عازمینِ حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی، مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمر انٹرن شپ 2026 کے شرکا سے خصوصی نشست جڑواں شہروں میں شدید بارش، رین ایمرجنسی نافذ، نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

Web Desk

24 July 2026

راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نوزائیدہ بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹنے کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں تھانہ نیوٹاؤن پولیس نے انسانی اعضا کو نقصان پہنچانے کی دفعہ 334 ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں ڈیوٹی پر موجود نرس نیلم صدیق کو نامزد کیا گیا ہے۔

ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر متاثرہ والد قیصر محمود کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور تب سے وہ نرسری میں زیرِ علاج تھی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ اپنی بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ جب اس متعلق ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز سے پوچھ گچھ کی تو بتایا گیا کہ انگوٹھا نرس نیلم صدیق سے غلطی سے کٹا ہے۔

والد کا موقف ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی اور صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی لیکن تاحال ذمہ داروں کے خلاف کوئی انتظامی کارروائی نہیں کی گئی، جس کے بعد انہوں نے انصاف کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔ دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست اور مقدمے کے بعد قانون کے مطابق مزید قانونی کارروائی اور چھان بین شروع کر دی گئی ہے، جبکہ ہسپتال انتظامیہ کا اس معاملے پر باضابطہ موقف آنا باقی ہے۔