LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یو ایس ایس ابراہم لنکن پر خراب حالات کی رپورٹس غلط ہیں، امریکی وزیر دفاع شیخوپورہ میں مقابلہ، لاہور میں اہلکاروں کو شہید کرنیوالے 2 دہشتگرد مارے گئے، 4 زخمی یوم آزادی پر قائداعظم، تحریک پاکستان کے رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں: اسحاق ڈار ہمارے بحری جہازوں پر قبضہ ہوا تو مناسب جواب دیں گے، روسی وزیر خارجہ ایران کے خلاف جنگ سے امریکی فوجی ذہنی دباؤ کا شکار، خودکشی کی کوششیں آزادی کا جشن: آسمان رنگ و نور سے روشن، شہر شہر شاندار آتشبازی کا مظاہرہ حکومت اور منی مزدا گڈز ٹرانسپورٹرز کے درمیان معاملات طے پاگئے، ہڑتال ختم پاکستان ہمارا وطن، ہماری شناخت، امید اور خوابوں کی تعبیر ہے: شرجیل میمن پوری قوم کو یادگار فتح کے سائے میں جشن آزادی مبارک: شہباز شریف حکومت کا قوم کو یوم آزادی پر تحفہ، پٹرول اور ڈیزل مہنگا کردیا لاہور پولیس ٹارگٹ کلرز کی زد میں، اہلکاروں کو ہر وقت مسلح رہنے کی ہدایت ڈاکٹر ستیانجل پانڈے نے پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں اسلام آباد میں یادگار فتح کی شاندار افتتاحی تقریب، قومی اتحاد اور حب الوطنی کا مظاہرہ ایران کا امریکی و اسرائیلی انٹیلی جنس سے وابستہ 2 افراد ہلاک کرنے کا دعویٰ ایران نے مجوزہ زمینی کارروائی کی سازش ابتدا میں ہی ناکام بنا دی، ابراہیم عزیزی

یورپ میں دو دہائیوں بعد مکمل سورج گرہن، لاکھوں افراد نے آسمانی منظر کا مشاہدہ کیا

Web Desk

12 August 2026

یورپ میں تقریباً دو دہائیوں کے طویل عرصے بعد ایک نایاب فلکیاتی منظر دیکھا گیا، جب 12 اگست 2026 کو ہونے والے مکمل سورج گرہن نے اسپین، آئس لینڈ، پرتگال اور گرین لینڈ کے شہریوں کو اپنی سحر انگیزی سے مائل کر لیا۔ اس تاریخی واقعے کو دیکھنے کے لیے ان ممالک سمیت پورے یورپ میں بے پناہ جوش و خروش دیکھا گیا، جہاں لاکھوں مقامی شہریوں اور بین الاقوامی سیاحوں نے اس دلفریب نظارے کا مشاہدہ کرنے کے لیے مختلف سیاحتی مقامات اور کھلے میدانوں کا رخ کیا۔

مکمل سورج گرہن کا راستہ اسپین کے شمالی اور وسطی علاقوں، پرتگال کے شمال مشرقی حصے اور آئس لینڈ سے گزرا۔ امریکی خلائی ادارے ‘ناسا’ کے مطابق اسپین کے نامور شہروں میڈرڈ اور بارسلونا میں گرہن اپنے عروج پر پہنچا تو سورج کا تقریباً 99 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ گیا، جس سے دن کے وقت اندھیرا چھا گیا۔ اس کے علاوہ برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا اور شمالی افریقا کے متعدد علاقوں میں بھی شہریوں نے جزوی سورج گرہن کا مشاہدہ کیا۔

ماہرینِ فلکیات اور طبی حکام نے شہریوں کو سخت ہدایت کی کہ وہ گرہن کو ننگی آنکھ یا عام دھوپ کے چشموں سے دیکھنے سے گریز کریں اور صرف تصدیق شدہ ‘سولر ایکلپس’ گلاسز کا استعمال کریں۔ یہ واقعہ یورپ کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 1999 اور 2006 کے بعد یہ براعظم یورپ کے اتنے بڑے حصے میں دیکھا جانے والا پہلا نمایاں ترین مکمل سورج گرہن ہے، جسے دیکھنے کے لیے حکام نے سیکیورٹی اور عوامی آسانیاں فراہم کرنے کے لیے سیکڑوں مقامات مختص کیے تھے۔