LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی وزیر احسن اقبال کا یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کا دورہ، جناح میڈیکل کمپلیکس اور پی کے ایل آئی کے ساتھ طبی و تحقیقی تعاون پر تبادلہ خیال سندھ میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع، صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی خاتون کی جان بچاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی نمازِ جنازہ ادا، فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت ختم، بیرسٹر گوہر سمیت کوئی بھی رہنما نہ مل سکا قیدِ تنہائی کے الزامات سنگین، نظر انداز نہیں کر سکتے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر تحریری حکم نامہ جاری امریکی صدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شرکت کیلئے ترکیہ پہنچ گئے وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ

6 سیاروں کو آپ آسمان پر کب اور کیسے دیکھ سکتے ہیں؟

Web Desk

20 February 2026

فلکیاتی دنیا میں فروری 2026 کا آخری ہفتہ ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ 21 سے 28 فروری کے دوران نظامِ شمسی کے 6 سیارے— عطارد، مشتری، زہرہ، زحل، یورینس اور نیپچون آسمان پر ایک قطار میں دکھائی دیں گے۔ اس انوکھی پریڈ میں صرف مریخ (Mars) موجود نہیں ہوگا۔

شمالی نصف کرے (Northern Hemisphere)، بشمول پاکستان، میں اس پریڈ کا بہترین مشاہدہ کیا جا سکے گا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار سیاروں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی کیونکہ زیادہ تر سیارے سورج غروب ہونے کے فوراً بعد افق کے قریب ہوں گے۔ عطارد اور مشتری افق کے نیچے محض 30 سے 45 منٹ تک دکھائی دیں گے۔

مغربی افق پر عطارد اور زہرہ ایک دوسرے کے پیچھے، جبکہ زحل اور نیپچون ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔ ان چاروں کو ٹیلی اسکوپ کی مدد سے تلاش کرنا ممکن ہوگا۔ اس پریڈ میں مشتری اور یورینس کو تلاش کرنا سب سے آسان ہوگا کیونکہ وہ دیگر سیاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی کافی دیر تک آسمان پر موجود رہیں گے۔ یورینس آدھی رات کے بعد غائب ہوگا جبکہ مشتری بھی اسی راستے پر کچھ فاصلے پر نظر آئے گا۔