LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم اپنی مدت پوری کرینگے، تمام وزارتوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے: محسن نقوی ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات طے پاگئے: اسماعیل بقائی ایران غزہ مذاکرات میں حماس کے ساتھ کھڑا رہے گا: مسعود پزشکیان آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ، 21 کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری امریکا نے پاسداران انقلاب سے منسلک تین اداروں پر عائد پابندیاں ختم کردیں شہری کے اغوا اور بھتہ خوری کیس میں راولپنڈی پولیس کا اہلکار دو ساتھیوں سمیت گرفتار روس کی کیف پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش، 21 افراد ہلاک، درجنوں زخمی جائیکا کے صدر کی احسن اقبال سے ملاقات، ترقیاتی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق شہباز شریف سے ایرانی وفد کی ملاقات، تجارت، کان کنی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق خواجہ آصف سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر گفتگو وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب، شیڈول طے پا گیا پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان توانائی کے شعبے میں سٹریٹجک تعاون، مفاہمتی یادداشت پر دستخط عمان سے ممکنہ بحری معاہدہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کی ضمانت نہیں: ایران پنجاب کے مختلف تعلیمی بورڈز میں پوزیشن ہولڈرز کا اعلان، طالبات نمایاں رہیں فلسطین کی آزادی کے لیے عرب اور مسلم ممالک متحد ہوں: اسحاق ڈار

6 سیاروں کو آپ آسمان پر کب اور کیسے دیکھ سکتے ہیں؟

Web Desk

20 February 2026

فلکیاتی دنیا میں فروری 2026 کا آخری ہفتہ ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ 21 سے 28 فروری کے دوران نظامِ شمسی کے 6 سیارے— عطارد، مشتری، زہرہ، زحل، یورینس اور نیپچون آسمان پر ایک قطار میں دکھائی دیں گے۔ اس انوکھی پریڈ میں صرف مریخ (Mars) موجود نہیں ہوگا۔

شمالی نصف کرے (Northern Hemisphere)، بشمول پاکستان، میں اس پریڈ کا بہترین مشاہدہ کیا جا سکے گا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار سیاروں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی کیونکہ زیادہ تر سیارے سورج غروب ہونے کے فوراً بعد افق کے قریب ہوں گے۔ عطارد اور مشتری افق کے نیچے محض 30 سے 45 منٹ تک دکھائی دیں گے۔

مغربی افق پر عطارد اور زہرہ ایک دوسرے کے پیچھے، جبکہ زحل اور نیپچون ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔ ان چاروں کو ٹیلی اسکوپ کی مدد سے تلاش کرنا ممکن ہوگا۔ اس پریڈ میں مشتری اور یورینس کو تلاش کرنا سب سے آسان ہوگا کیونکہ وہ دیگر سیاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی کافی دیر تک آسمان پر موجود رہیں گے۔ یورینس آدھی رات کے بعد غائب ہوگا جبکہ مشتری بھی اسی راستے پر کچھ فاصلے پر نظر آئے گا۔