LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

6 سیاروں کو آپ آسمان پر کب اور کیسے دیکھ سکتے ہیں؟

Web Desk

20 February 2026

فلکیاتی دنیا میں فروری 2026 کا آخری ہفتہ ایک غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ 21 سے 28 فروری کے دوران نظامِ شمسی کے 6 سیارے— عطارد، مشتری، زہرہ، زحل، یورینس اور نیپچون آسمان پر ایک قطار میں دکھائی دیں گے۔ اس انوکھی پریڈ میں صرف مریخ (Mars) موجود نہیں ہوگا۔

شمالی نصف کرے (Northern Hemisphere)، بشمول پاکستان، میں اس پریڈ کا بہترین مشاہدہ کیا جا سکے گا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بار سیاروں کا مشاہدہ کرنے کے لیے ٹیلی اسکوپ کی ضرورت ہوگی کیونکہ زیادہ تر سیارے سورج غروب ہونے کے فوراً بعد افق کے قریب ہوں گے۔ عطارد اور مشتری افق کے نیچے محض 30 سے 45 منٹ تک دکھائی دیں گے۔

مغربی افق پر عطارد اور زہرہ ایک دوسرے کے پیچھے، جبکہ زحل اور نیپچون ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔ ان چاروں کو ٹیلی اسکوپ کی مدد سے تلاش کرنا ممکن ہوگا۔ اس پریڈ میں مشتری اور یورینس کو تلاش کرنا سب سے آسان ہوگا کیونکہ وہ دیگر سیاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی کافی دیر تک آسمان پر موجود رہیں گے۔ یورینس آدھی رات کے بعد غائب ہوگا جبکہ مشتری بھی اسی راستے پر کچھ فاصلے پر نظر آئے گا۔