LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب کے مختلف تعلیمی بورڈز میں پوزیشن ہولڈرز کا اعلان، طالبات نمایاں رہیں فلسطین کی آزادی کے لیے عرب اور مسلم ممالک متحد ہوں: اسحاق ڈار وزیراعظم سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، معاشی اصلاحات کے فروغ پر اتفاق وزیراعظم کی پرائیویٹائزیشن کمیشن کی تنظیمِ نو 01 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف کارروائیاں بڑھانے پر اتفاق، مشترکہ اعلامیہ جاری مریم نواز سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق 5 اگست 2019 ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، حافظ نعیم اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات کا نیا دور شروع اسحاق ڈار یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن پہنچ گئے کوئی طاقت کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت ختم نہیں کر سکتی، مشعال ملک امریکا نے طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کا پورا ذخیرہ استعمال کر لیا 5اگست2019، کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا سیاہ باب آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کو سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ دبئی کے مشہور ہیومنائڈ روبوٹ ’بو سنیدہ‘ نے’موزہ‘ نامی روبوٹ سے شادی کر لی ایران اور امریکا 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے: امریکی نشریاتی ادارے کا دعویٰ

شادی میں مجرموں کو مدعو کرنے پر پولیس کانسٹیبل ملازمت سے برطرف

Web Desk

16 February 2026

راجستھان: راجستھان پولیس نے ایک کانسٹیبل کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے، کیونکہ ان کی شادی کی تقریب میں مبینہ خطرناک اور مطلوب ملزمان کی شرکت سامنے آئی۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ برطرف کیے جانے والے کانسٹیبل اشوک بشنوئی ضلع جھالاواڑ میں تعینات سپیشل ٹیم کے رکن تھے، اور ان کی شادی ناگور میں ہوئی، جہاں راجستھان اور مدھیہ پردیش کے متعدد مبینہ جرائم پیشہ افراد شریک ہوئے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض افراد دولہا کے ساتھ تصاویر بنوا رہے ہیں اور تقریب کے دوران نوٹ بھی نچھاور کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق تقریب میں شامل افراد میں وہ نام بھی شامل تھے جو مختلف سنگین مقدمات میں مطلوب یا زیر تفتیش تھے، جن میں منشیات اور اسلحہ سمگلنگ سے متعلق کیسز بھی شامل ہیں۔ کچھ افراد کو متعلقہ اضلاع کی ’ٹاپ ٹین‘ فہرستوں میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملنے پر ضلع جھالاواڑ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے محکمانہ انکوائری کا حکم دیا، اور ابتدائی تحقیقات کے بعد کانسٹیبل کو فوری برطرف کر دیا گیا۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا تھا کہ وردی کے وقار اور محکمہ پولیس کی ساکھ پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ معاملے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اہلکار اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان روابط کی نوعیت اور حد کیا تھی۔