LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی حکومت نے نیشنل پاپولیشن کونسل تشکیل دے دی، وزیر اعظم چیئرمین اور آرمی چیف رکن مقرر پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ

شادی میں مجرموں کو مدعو کرنے پر پولیس کانسٹیبل ملازمت سے برطرف

Web Desk

16 February 2026

راجستھان: راجستھان پولیس نے ایک کانسٹیبل کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے، کیونکہ ان کی شادی کی تقریب میں مبینہ خطرناک اور مطلوب ملزمان کی شرکت سامنے آئی۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد فوری محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ برطرف کیے جانے والے کانسٹیبل اشوک بشنوئی ضلع جھالاواڑ میں تعینات سپیشل ٹیم کے رکن تھے، اور ان کی شادی ناگور میں ہوئی، جہاں راجستھان اور مدھیہ پردیش کے متعدد مبینہ جرائم پیشہ افراد شریک ہوئے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض افراد دولہا کے ساتھ تصاویر بنوا رہے ہیں اور تقریب کے دوران نوٹ بھی نچھاور کیے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق تقریب میں شامل افراد میں وہ نام بھی شامل تھے جو مختلف سنگین مقدمات میں مطلوب یا زیر تفتیش تھے، جن میں منشیات اور اسلحہ سمگلنگ سے متعلق کیسز بھی شامل ہیں۔ کچھ افراد کو متعلقہ اضلاع کی ’ٹاپ ٹین‘ فہرستوں میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔

واقعہ کی اطلاع ملنے پر ضلع جھالاواڑ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے محکمانہ انکوائری کا حکم دیا، اور ابتدائی تحقیقات کے بعد کانسٹیبل کو فوری برطرف کر دیا گیا۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا کہنا تھا کہ وردی کے وقار اور محکمہ پولیس کی ساکھ پر کسی قسم کا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ معاملے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اہلکار اور جرائم پیشہ عناصر کے درمیان روابط کی نوعیت اور حد کیا تھی۔