LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز عمران خان کا شفا ہسپتال میں تفصیلی معائنہ، صحت مند قرار، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطا تارڑ بلوچستان میں دشمن عناصر ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں: فیلڈ مارشل پاکستان اور شام کا دفاعی شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پابندیاں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی دشمن کی دھمکیوں، حملوں کے باعث اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا دیا: ایران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن 9 ماہ بعد مشرق وسطیٰ سے روانہ عراق کا آبنائے ہرمز سے تیل برآمد کرنے کیلئے ایران سے خصوصی رعایت کا مطالبہ شام میں کرد انتظامیہ کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے کا عمل مکمل فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی شدید مذمت نائیجیریا کے علاقے سوکوٹو میں کشتی حادثہ، 50 افراد ہلاک

بلوچستان میں کشیدگی برقرار: کوئٹہ میں 17 پولیس شہدا کی میتوں کے ہمراہ دوسرا دھرنا شروع، اہم شاہراہیں بند

Web Desk

9 July 2026

کوئٹہ: بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں سانحہ زیارت کے دوران شہید ہونے والے 17 پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے انصاف نہ ملنے پر میتوں کے ہمراہ ‘کوئلہ پھاٹک’ کے مقام پر ایک اور بڑا دھرنا دے دیا ہے۔

شہر میں دوسرے بڑے دھرنے کے آغاز کے باعث سمنگلی روڈ سے کوئٹہ شہر کی جانب آنے والی تمام ٹریفک اور رابطہ سڑکیں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 سانحہ ہنہ اوڑک کے شہدا کے لواحقین آج پانچویں روز بھی اپنے پیاروں کی میتیں سڑک پر رکھ کر ایئرپورٹ روڈ پر سراپا احتجاج ہیں۔سانحہ زیارت کے شہدائے پولیس کے لواحقین نے تازہ ترین احتجاج شروع کر کے شہر کا ایک اور اہم داخلی و خارجی راستہ بلاک کر دیا ہے۔

انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ سانحہ ہنہ اوڑک کے شہدا کی تدفین پانچویں روز بھی تاحال نہیں ہو سکی ہے۔ لواحقین کا مؤقف ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا، وہ احتجاج ختم کریں گے اور نہ ہی تدفین کی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ اور حکام کی جانب سے مظاہرین کو منانے اور مذاکرات کی کوششیں اب تک ناکام ثابت ہوئی ہیں، جس کے باعث کوئٹہ کے دو اہم ترین راستے (ایئرپورٹ روڈ اور سمنگلی روڈ) بلاک ہیں اور شہر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔