LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی ٹرمپ کے تعاون سے ایران کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہتے ہیں، نیتن یاہو لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہفتہ رفتہ منفی رجحان حاوی ، 3629 پوائنٹس کمی

Web Desk

14 March 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور علاقائی عدم استحکام کے سائے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) پر بھی گہرے رہے، جس کے باعث حالیہ کاروباری ہفتہ شدید مندی کی زد میں رہا۔ سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 3629 پوائنٹس کی بڑی کمی کے ساتھ 153,866 کی سطح پر بند ہوا۔ ہفتے کے دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈیکس 14,505 پوائنٹس کے وسیع بینڈ میں رہا۔

ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق، انڈیکس کی بلند ترین سطح 158,624 رہی جبکہ مندی کے دباؤ میں یہ 144,119 کی کم ترین سطح تک بھی گرا۔ حصص بازار میں ایک ہفتے کے دوران 2.25 ارب شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 132 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس شدید مندی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن 369 ارب روپے کی کمی کے بعد 17,329 ارب روپے پر آگئی ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے آثار نمایاں نہیں ہوتے، مارکیٹ میں دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔