LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایس ای سی پی کا انقلابی قدم؛ اب IBAN کے ذریعے ڈیجیٹل ’کے وائی سی‘ ہوگی، نادرا کے بلاک شناختی کارڈز پر انویسٹمنٹ اکاؤنٹس بھی فوری بلاک کرنے کا فیصلہ پاک امریکہ تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم پیش رفت؛ مذاکرات مثبت رہے، اختلافات کم کرنے پر اتفاق سمندری طوفان باوی سے کئی ممالک کو خطرہ، فلپائن میں کم از کم 15 افراد ہلاک حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا امریکی قونصل خانے کے وفد کا ای پی اے لاہور کا دورہ، سموگ کنٹرول اقدامات کو سراہا آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں پاکستان کو مزید 3.6 ارب ڈالر قرض دے گا پاکستان کا محلِ وقوع ایک اثاثہ، معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے: اسحاق ڈار آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی تازہ کارروائیوں میں 9 دہشت گرد ہلاک عمران خان اور جمائمہ کا برطانوی گھر برائے فروخت ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور بش ایران کے قریب تعینات کر دیئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ہفتہ وار رپورٹ؛ 100 انڈیکس میں 3130 پوائنٹس کی بڑی کمی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے اسرائیل لبنان جنگ بندی پر عمل درآمد کیلئے امریکی فوجی وفد بیروت پہنچ گیا شپنگ، بندرگاہوں اور گوادر کی ترقی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان

امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور بش ایران کے قریب تعینات کر دیئے

Web Desk

11 July 2026

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے بعد بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جس کے ساتھ ہی امریکی بحریہ نے ایران کے قریب خلیجِ عمان میں اپنے 2 بڑے طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ اور ’یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش‘ تعینات کر دیے ہیں۔ ’نیویارک پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، اس بھاری فوجی تعیناتی کا مقصد آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی کو مضبوط کرنا اور تہران پر دباؤ بڑھانا ہے، جہاں سے عالمی منڈی کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ دونوں ممالک میں کشیدگی اس وقت دوبارہ بڑھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عارضی جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد امریکا نے ایران پر 3 آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام لگا کر ایرانی فوجی تنصیبات پر بمباری کی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، بدھ اور جمعرات کو ایران کے 6 شہروں پر امریکی حملوں میں 17 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے خطے کی سلامتی کے نام پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز الرٹ کر رکھے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دونوں طیارہ بردار جہاز اس وقت ایرانی میزائلوں کی ممکنہ مار کی حدود میں موجود ہیں جس سے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینئر فیلو ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری کا کہنا ہے کہ یہ نقل و حرکت ظاہر کرتی ہے کہ بحری جہاز ممکنہ بحری ناکہ بندی یا تجارتی راستوں کے کنٹرول کے لیے ایرانی حدود کے انتہائی قریب آچکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر اس قدر فوکس عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے، جو نومبر میں ہونے والے امریکی کانگریس کے انتخابات کے لیے سیاسی طور پر انتہائی اہم ہے۔ دوسری جانب، سفارتی سطح پر قطر کا ایک وفد کشیدگی کم کرنے کے لیے تہران میں مذاکرات مکمل کر کے واپس روانہ ہو گیا ہے، جبکہ ایرانی حکام آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت کے لیے آج عمان کا اہم دورہ کر رہے ہیں۔