LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا تیسری بار صدر بننے کی خواہش کا اظہار، آئین رکاوٹ بن گیا زمبابوے میں مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی، 44 افراد ہلاک ایران اب مشرق وسطیٰ کا بدمعاش نہیں رہا، پاسداران انقلاب تباہ ہوچکی: ٹرمپ قومی سطح پر یکساں ای فائلنگ نظام کے قیام کیلئے مشاورتی عمل شروع گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے صنعتی سرگرمیاں متاثر، ایف پی سی سی آئی کا ریڈ الرٹ سندھ حکومت کا چترال کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان پشاور پہنچ گیا سوراب میں بم دھماکہ: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 18 دہشتگرد ہلاک، 3 شہری شہید ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع پر مذاکرات کی تردید کردی امریکا اور ایران کا 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق مغرب ممالک نے روسی تجارتی جہاز قبضے میں لئے تو بھرپور جواب دیں گے: پوتن مال روڈ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے، طلال چوہدری پاکستان، بیلاروس کا اقتصادی و تجارتی تعاون نئی سطح پر لے جانے پر اتفاق امریکی فوج ہماری توقع سے کہیں زیادہ کمزور نکلی: مشیر ایرانی کمانڈر کا بڑا دعویٰ اسحاق ڈار کی حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ قابلِ مذمت: ترجمان دفتر خارجہ

امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور بش ایران کے قریب تعینات کر دیئے

Web Desk

11 July 2026

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے کے بعد بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جس کے ساتھ ہی امریکی بحریہ نے ایران کے قریب خلیجِ عمان میں اپنے 2 بڑے طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ اور ’یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش‘ تعینات کر دیے ہیں۔ ’نیویارک پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، اس بھاری فوجی تعیناتی کا مقصد آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی کو مضبوط کرنا اور تہران پر دباؤ بڑھانا ہے، جہاں سے عالمی منڈی کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ دونوں ممالک میں کشیدگی اس وقت دوبارہ بڑھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عارضی جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد امریکا نے ایران پر 3 آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام لگا کر ایرانی فوجی تنصیبات پر بمباری کی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، بدھ اور جمعرات کو ایران کے 6 شہروں پر امریکی حملوں میں 17 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے خطے کی سلامتی کے نام پر اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز الرٹ کر رکھے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ دونوں طیارہ بردار جہاز اس وقت ایرانی میزائلوں کی ممکنہ مار کی حدود میں موجود ہیں جس سے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینئر فیلو ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری کا کہنا ہے کہ یہ نقل و حرکت ظاہر کرتی ہے کہ بحری جہاز ممکنہ بحری ناکہ بندی یا تجارتی راستوں کے کنٹرول کے لیے ایرانی حدود کے انتہائی قریب آچکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر اس قدر فوکس عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے، جو نومبر میں ہونے والے امریکی کانگریس کے انتخابات کے لیے سیاسی طور پر انتہائی اہم ہے۔ دوسری جانب، سفارتی سطح پر قطر کا ایک وفد کشیدگی کم کرنے کے لیے تہران میں مذاکرات مکمل کر کے واپس روانہ ہو گیا ہے، جبکہ ایرانی حکام آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت کے لیے آج عمان کا اہم دورہ کر رہے ہیں۔