LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
زمبابوے میں مسافروں سے بھری کشتی الٹ گئی، 44 افراد ہلاک ایران اب مشرق وسطیٰ کا بدمعاش نہیں رہا، پاسداران انقلاب تباہ ہوچکی: ٹرمپ قومی سطح پر یکساں ای فائلنگ نظام کے قیام کیلئے مشاورتی عمل شروع گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے صنعتی سرگرمیاں متاثر، ایف پی سی سی آئی کا ریڈ الرٹ سندھ حکومت کا چترال کے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان پشاور پہنچ گیا سوراب میں بم دھماکہ: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 18 دہشتگرد ہلاک، 3 شہری شہید ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع پر مذاکرات کی تردید کردی امریکا اور ایران کا 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق مغرب ممالک نے روسی تجارتی جہاز قبضے میں لئے تو بھرپور جواب دیں گے: پوتن مال روڈ واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے، طلال چوہدری پاکستان، بیلاروس کا اقتصادی و تجارتی تعاون نئی سطح پر لے جانے پر اتفاق امریکی فوج ہماری توقع سے کہیں زیادہ کمزور نکلی: مشیر ایرانی کمانڈر کا بڑا دعویٰ اسحاق ڈار کی حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ قابلِ مذمت: ترجمان دفتر خارجہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایرانی قیادت سے اہم ملاقات، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا خصوصی پیغام پہنچا دیا

سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے اہم فیصلہ جاری

Web Desk

11 July 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ اور طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر فیصل آباد میں تعینات گریڈ 17 کے ملازم کامران خان پر ہراسانی کے الزامات سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے سروس ٹربیونل کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکمے کی جانب سے مجرم کو دی گئی ‘5 سالہ سروس کی ضبطی’ کی سزا کو بحال کر دیا ہے اور زائد المعیاد ہونے کی بنیاد پر ملزم کی اپیل خارج کر دی ہے۔

اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جو ادارہ ہراسانی کو برداشت کرتا ہے، وہ اپنے تعلیمی مشن کی نفی کرتا ہے؛ وہاں طلباء یہ سیکھتے ہیں کہ طاقت بدعنوانی کا جواز ہے اور سچائی پر خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں مرد ساتھیوں کی طرف سے خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک سنگین جرم، غیر قانونی رویہ اور قانون، اخلاقیات سمیت کام کی جگہ کے وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فیصلے میں تشریح کی گئی کہ غیر متعلقہ تبصرے، جنسی نوعیت کے لطیفے یا پیغامات، آوازیں کسنا، ملازمت کے فوائد کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنا، بلااجازت جسمانی رابطے کی کوششیں اور کام کی جگہ پر مخالفانہ یا غیر محفوظ ماحول پیدا کرنا مکمل طور پر غیر قانونی ہیں، جو پورے ادارے کا ماحول بگاڑ دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کام کی جگہ پر صحت مند ماحول یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہر ادارے میں ہراسانی کے خلاف ایک واضح پالیسی اور اعلیٰ حکام تک رپورٹنگ کا فعال نظام ہونا چاہیے۔ وزارتِ تعلیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور ان ہاؤس “انکوائری کمیٹی” کی تشکیل لازمی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خواتین براہِ راست شکایت درج کروا سکیں۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی کاپی وفاقی وزیر تعلیم، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، سیکرٹریز اسکول و ہائر ایجوکیشن، اور وفاقی و صوبائی محتسب کو ارسال کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ملکی سطح پر اس کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔