LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور اسرائیل کو جنگی جرائم کی سزا اور ہرجانہ ادا کرنا ہوگا: سربراہ ایرانی عدلیہ بنوں: پولیس نے 40 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست جاری کر دی، سروں کی قیمت مقرر پاکستان ہاکی کی بہتری کیلیے غیر ملکی کوچز نے کام شروع کر دیا غیر ملکی خواتین سے جنسی زیادتی اور اغوا کا کیس: ملزمان کا مزید 5 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور بہامس میں طیارہ گر کر تباہ، 10 افراد ہلاک یوکرین کا 28 روسی سمندری جہازوں پر حملہ، ماسکو نے سمندری راستہ بند کردیا سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج پھر قیمت بڑھ گئی سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے اہم فیصلہ جاری ایس ای سی پی کا انقلابی قدم؛ اب IBAN کے ذریعے ڈیجیٹل ’کے وائی سی‘ ہوگی، نادرا کے بلاک شناختی کارڈز پر انویسٹمنٹ اکاؤنٹس بھی فوری بلاک کرنے کا فیصلہ پاک امریکہ تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم پیش رفت؛ مذاکرات مثبت رہے، اختلافات کم کرنے پر اتفاق سمندری طوفان باوی سے کئی ممالک کو خطرہ، فلپائن میں کم از کم 15 افراد ہلاک حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا امریکی قونصل خانے کے وفد کا ای پی اے لاہور کا دورہ، سموگ کنٹرول اقدامات کو سراہا آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں پاکستان کو مزید 3.6 ارب ڈالر قرض دے گا پاکستان کا محلِ وقوع ایک اثاثہ، معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے: اسحاق ڈار

سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے اہم فیصلہ جاری

Web Desk

11 July 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ اور طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر فیصل آباد میں تعینات گریڈ 17 کے ملازم کامران خان پر ہراسانی کے الزامات سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے سروس ٹربیونل کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکمے کی جانب سے مجرم کو دی گئی ‘5 سالہ سروس کی ضبطی’ کی سزا کو بحال کر دیا ہے اور زائد المعیاد ہونے کی بنیاد پر ملزم کی اپیل خارج کر دی ہے۔

اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جو ادارہ ہراسانی کو برداشت کرتا ہے، وہ اپنے تعلیمی مشن کی نفی کرتا ہے؛ وہاں طلباء یہ سیکھتے ہیں کہ طاقت بدعنوانی کا جواز ہے اور سچائی پر خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں مرد ساتھیوں کی طرف سے خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک سنگین جرم، غیر قانونی رویہ اور قانون، اخلاقیات سمیت کام کی جگہ کے وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فیصلے میں تشریح کی گئی کہ غیر متعلقہ تبصرے، جنسی نوعیت کے لطیفے یا پیغامات، آوازیں کسنا، ملازمت کے فوائد کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنا، بلااجازت جسمانی رابطے کی کوششیں اور کام کی جگہ پر مخالفانہ یا غیر محفوظ ماحول پیدا کرنا مکمل طور پر غیر قانونی ہیں، جو پورے ادارے کا ماحول بگاڑ دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کام کی جگہ پر صحت مند ماحول یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہر ادارے میں ہراسانی کے خلاف ایک واضح پالیسی اور اعلیٰ حکام تک رپورٹنگ کا فعال نظام ہونا چاہیے۔ وزارتِ تعلیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور ان ہاؤس “انکوائری کمیٹی” کی تشکیل لازمی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خواتین براہِ راست شکایت درج کروا سکیں۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی کاپی وفاقی وزیر تعلیم، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، سیکرٹریز اسکول و ہائر ایجوکیشن، اور وفاقی و صوبائی محتسب کو ارسال کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ملکی سطح پر اس کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔