LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ بادامی باغ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید وزیراعظم شہباز شریف سے ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پنجاب حکومت کا انتظامی اخراجات کم کرنے کیلئے 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ اسحاق ڈار سے صدر ن لیگ آزاد کشمیر کی ملاقات، حکومت سازی سے متعلق امور پر گفتگو ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس

سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے اہم فیصلہ جاری

Web Desk

11 July 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ اور طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر فیصل آباد میں تعینات گریڈ 17 کے ملازم کامران خان پر ہراسانی کے الزامات سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے سروس ٹربیونل کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکمے کی جانب سے مجرم کو دی گئی ‘5 سالہ سروس کی ضبطی’ کی سزا کو بحال کر دیا ہے اور زائد المعیاد ہونے کی بنیاد پر ملزم کی اپیل خارج کر دی ہے۔

اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جو ادارہ ہراسانی کو برداشت کرتا ہے، وہ اپنے تعلیمی مشن کی نفی کرتا ہے؛ وہاں طلباء یہ سیکھتے ہیں کہ طاقت بدعنوانی کا جواز ہے اور سچائی پر خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں مرد ساتھیوں کی طرف سے خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک سنگین جرم، غیر قانونی رویہ اور قانون، اخلاقیات سمیت کام کی جگہ کے وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فیصلے میں تشریح کی گئی کہ غیر متعلقہ تبصرے، جنسی نوعیت کے لطیفے یا پیغامات، آوازیں کسنا، ملازمت کے فوائد کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنا، بلااجازت جسمانی رابطے کی کوششیں اور کام کی جگہ پر مخالفانہ یا غیر محفوظ ماحول پیدا کرنا مکمل طور پر غیر قانونی ہیں، جو پورے ادارے کا ماحول بگاڑ دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کام کی جگہ پر صحت مند ماحول یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہر ادارے میں ہراسانی کے خلاف ایک واضح پالیسی اور اعلیٰ حکام تک رپورٹنگ کا فعال نظام ہونا چاہیے۔ وزارتِ تعلیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور ان ہاؤس “انکوائری کمیٹی” کی تشکیل لازمی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خواتین براہِ راست شکایت درج کروا سکیں۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی کاپی وفاقی وزیر تعلیم، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، سیکرٹریز اسکول و ہائر ایجوکیشن، اور وفاقی و صوبائی محتسب کو ارسال کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ملکی سطح پر اس کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔