سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے اہم فیصلہ جاری
Web Desk
11 July 2026
سپریم کورٹ آف پاکستان نے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ اور طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر فیصل آباد میں تعینات گریڈ 17 کے ملازم کامران خان پر ہراسانی کے الزامات سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے سروس ٹربیونل کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکمے کی جانب سے مجرم کو دی گئی ‘5 سالہ سروس کی ضبطی’ کی سزا کو بحال کر دیا ہے اور زائد المعیاد ہونے کی بنیاد پر ملزم کی اپیل خارج کر دی ہے۔
اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ جو ادارہ ہراسانی کو برداشت کرتا ہے، وہ اپنے تعلیمی مشن کی نفی کرتا ہے؛ وہاں طلباء یہ سیکھتے ہیں کہ طاقت بدعنوانی کا جواز ہے اور سچائی پر خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں مرد ساتھیوں کی طرف سے خواتین اساتذہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک سنگین جرم، غیر قانونی رویہ اور قانون، اخلاقیات سمیت کام کی جگہ کے وقار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فیصلے میں تشریح کی گئی کہ غیر متعلقہ تبصرے، جنسی نوعیت کے لطیفے یا پیغامات، آوازیں کسنا، ملازمت کے فوائد کے بدلے غیر اخلاقی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنا، بلااجازت جسمانی رابطے کی کوششیں اور کام کی جگہ پر مخالفانہ یا غیر محفوظ ماحول پیدا کرنا مکمل طور پر غیر قانونی ہیں، جو پورے ادارے کا ماحول بگاڑ دیتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کام کی جگہ پر صحت مند ماحول یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہر ادارے میں ہراسانی کے خلاف ایک واضح پالیسی اور اعلیٰ حکام تک رپورٹنگ کا فعال نظام ہونا چاہیے۔ وزارتِ تعلیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے خلاف ضابطہ اخلاق (Code of Conduct) کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور ان ہاؤس “انکوائری کمیٹی” کی تشکیل لازمی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خواتین براہِ راست شکایت درج کروا سکیں۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی کاپی وفاقی وزیر تعلیم، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، سیکرٹریز اسکول و ہائر ایجوکیشن، اور وفاقی و صوبائی محتسب کو ارسال کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ملکی سطح پر اس کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ
13 August 2026
بادامی باغ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید
13 August 2026
وزیراعظم شہباز شریف سے ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
13 August 2026
پنجاب حکومت کا انتظامی اخراجات کم کرنے کیلئے 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ
13 August 2026
اسحاق ڈار سے صدر ن لیگ آزاد کشمیر کی ملاقات، حکومت سازی سے متعلق امور پر گفتگو
13 August 2026
ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
13 August 2026
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
13 August 2026
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس
13 August 2026