LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ بادامی باغ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید وزیراعظم شہباز شریف سے ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پنجاب حکومت کا انتظامی اخراجات کم کرنے کیلئے 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ اسحاق ڈار سے صدر ن لیگ آزاد کشمیر کی ملاقات، حکومت سازی سے متعلق امور پر گفتگو ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس

ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف

Web Desk

11 July 2026

ڈائریکٹوریٹ جنرل آڈٹ ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز کی جانب سے مالی سال 25-2024 کے لیے جاری کی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) کے اندر اربوں روپے کی ٹیکس بے ضابطگیوں، محصولات کی کم وصولی اور داخلی کنٹرول کے نظام کی سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، ان بے ضابطگیوں کے باعث مجموعی طور پر 323 ارب 34 کروڑ روپے کی ریکوری کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران ایف بی آر صرف 43 ارب روپے کی وصولی ہی ممکن بنا سکا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آر کی آمدن اور اخراجات کا رسک بیسڈ آڈٹ کیا گیا، جس میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ادارہ جاتی کنٹرول کا نظام انتہائی کمزور اور غیر مؤثر ہے۔

رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس کے شعبے میں 19 فیلڈ دفاتر نے 527 کیسز میں 117 ارب 77 کروڑ روپے کا ’سپر ٹیکس‘ جبکہ 18 فیلڈ دفاتر نے 601 کیسز میں 15 ارب 29 کروڑ روپے کا ’کم از کم ٹیکس‘ وصول ہی نہیں کیا۔ اس کے علاوہ 16 فیلڈ دفاتر نے ناقابل قبول اخراجات کے دعوؤں کے باعث 276 کیسز میں 24 ارب روپے کا انکم ٹیکس کم وصول کیا۔ سیلز ٹیکس کے شعبے میں بلیک لسٹڈ ٹیکس دہندگان کے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کی نگرانی نہ ہونے کے باعث 159 کیسز میں 41 ارب 78 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں، جبکہ 20 فیلڈ دفاتر نے 870 کیسز میں 13 ارب 3 کروڑ روپے کا سیلز ٹیکس غائب کیا۔

کسٹمز ڈیوٹی کے شعبے میں بھی درآمدی اشیا کی غلط درجہ بندی اور کم قیمت ظاہر کیے جانے کے باعث 9 ہزار 831 کیسز میں 3 ارب 56 کروڑ روپے کے محصولات کم وصول ہوئے، جبکہ ڈیوٹی اور ٹیکس چھوٹ کے غلط استعمال اور ضبط شدہ سامان فروخت نہ ہونے سے قومی خزانے کو مزید اربوں کا نقصان پہنچا۔ آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایف بی آر اپنے داخلی کنٹرول کے نظام کو مؤثر بنائے، مستقل نگرانی کے لیے ٹیکس دہندگان کے پروفائل کو ریٹرن فائلنگ سسٹم سے منسلک کرے اور کم از کم ٹیکس و سپر ٹیکس کے درست تعین کے لیے رسک بیسڈ ڈیسک آڈٹ کا نفاذ کرے