LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم

وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب روانہ ہوں گے؛ ایک ماہ میں دوسرا دورہ

Web Desk

14 April 2026

وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب کے ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ دورہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جو گزشتہ ایک ماہ کے دوران وزیراعظم کا دوسرا دورہِ سعودی عرب ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کی ولی عہد کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ ملاقات کے دوران خطے میں کشیدگی کی کمی، مستقل جنگ بندی کے امکانات اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال زیرِ غور آئے گی۔

اس دورے کو سفارتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ملاقات میں نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر بات ہوگی بلکہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ حکمتِ عملی پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ وزیراعظم سعودی ولی عہد کو پاکستان کی سفارتی کوششوں اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے رابطوں پر بھی اعتماد میں لیں گے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب کا یہ دورہ ایک وسیع تر سفارتی مشن کا حصہ ہے، جس کے فوری بعد وزیراعظم کے ترکیہ اور قطر کے دورے بھی متوقع ہیں۔ ان دوروں کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں کو حتمی شکل دینا اور مسلم ممالک کے درمیان ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ وزیراعظم کا یہ فعال سفارتی متحرک ہونا عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور خطے میں امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔