LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں

وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب روانہ ہوں گے؛ ایک ماہ میں دوسرا دورہ

Web Desk

14 April 2026

وزیراعظم شہباز شریف کل سعودی عرب کے ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ دورہ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جو گزشتہ ایک ماہ کے دوران وزیراعظم کا دوسرا دورہِ سعودی عرب ہوگا۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کی ولی عہد کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اسلام آباد میں جاری امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے آئندہ لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔ ملاقات کے دوران خطے میں کشیدگی کی کمی، مستقل جنگ بندی کے امکانات اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال زیرِ غور آئے گی۔

اس دورے کو سفارتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ملاقات میں نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر بات ہوگی بلکہ خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ حکمتِ عملی پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ وزیراعظم سعودی ولی عہد کو پاکستان کی سفارتی کوششوں اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے رابطوں پر بھی اعتماد میں لیں گے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب کا یہ دورہ ایک وسیع تر سفارتی مشن کا حصہ ہے، جس کے فوری بعد وزیراعظم کے ترکیہ اور قطر کے دورے بھی متوقع ہیں۔ ان دوروں کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی کوششوں کو حتمی شکل دینا اور مسلم ممالک کے درمیان ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ وزیراعظم کا یہ فعال سفارتی متحرک ہونا عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور خطے میں امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔