LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان، کرغزستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور سٹریٹجک شراکت داری پر اتفاق شام میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب دو دھماکے، 18 افراد زخمی وفاقی وزیرِ خزانہ کا بڑا اقدام؛ اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں ‘ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس’ قائم چین: 325 ملین ڈالرز رشوت لینے پر سرکاری عہدیدار کو سزائے موت کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بی ایل اے کے 2 دہشت گرد گرفتار حکومت پیٹرول پر لیوی کا بھتہ وصول کر رہی ہے، قیمت 225 روپے ہونی چاہیے؛ حافظ نعیم الرحمن ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی آسان بنائی جائے؛ وزیرِ اعظم معیشت مضبوط استحکام کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، جی ڈی پی 3.7 فیصد ریکارڈ؛ وزیرِ خزانہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان کے باعث ریکارڈ ٹوٹنے کا سلسلہ برقرار اقوام متحدہ کا ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ زیارت میں دہشت گردوں کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی

کبوتر راستہ کیسے نہیں بھولتے؟ سائنسی تحقیق نے حیران کن راز سے پردہ اٹھا دیا

Web Desk

28 January 2026

کبوتروں کو دنیا کے بہترین نیویگیٹرز میں شمار کیا جاتا ہے، اور یہ ہزاروں کلومیٹر دور ہونے کے باوجود کبھی راستہ نہیں بھولتے۔ اگر انہیں کسی نامعلوم مقام پر چھوڑ دیا جائے تو بھی یہ بالکل اپنے گھر یا مقررہ منزل تک واپس پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قدیم زمانے میں کبوتروں کو اسی خوبی کی وجہ سے پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، لیکن سائنسدانوں ہمیشہ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے کہ کبوتر اتنی دوری کے باوجود راستہ کیسے تلاش کرتے ہیں۔

جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے کبوتروں کے دماغ کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ تحقیق کے دوران زمین کے مقناطیسی میدان جیسا ایک مصنوعی فیلڈ تیار کیا گیا اور کبوتروں کو اس ماحول میں رکھا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ کبوتر کے دماغ کے وہ حصے جو سمت اور راستہ تلاش کرنے کے ذمہ دار ہیں، اندرونی کان سے جڑے ہوئے ہیں۔ اندرونی کان میں موجود نہایت باریک ننھے بال زمین کے مقناطیسی میدان کی لہروں سے متحرک ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں برقی سگنلز پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سگنلز کبوتروں کو یہ بتاتے ہیں کہ کس سمت میں پرواز کرنی ہے اور منزل کہاں واقع ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اصول آج کے جدید وائرلیس موبائل چارجرز میں بھی استعمال ہوتا ہے، جہاں مقناطیسی فیلڈ میں تبدیلی کے ذریعے برقی لہریں پیدا کر کے موبائل فون کو چارج کیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق فطرت میں موجود یہ نظام جدید ٹیکنالوجی کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے اور قدرت کے راز آج بھی انسان کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔