LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

کبوتر راستہ کیسے نہیں بھولتے؟ سائنسی تحقیق نے حیران کن راز سے پردہ اٹھا دیا

Web Desk

28 January 2026

کبوتروں کو دنیا کے بہترین نیویگیٹرز میں شمار کیا جاتا ہے، اور یہ ہزاروں کلومیٹر دور ہونے کے باوجود کبھی راستہ نہیں بھولتے۔ اگر انہیں کسی نامعلوم مقام پر چھوڑ دیا جائے تو بھی یہ بالکل اپنے گھر یا مقررہ منزل تک واپس پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قدیم زمانے میں کبوتروں کو اسی خوبی کی وجہ سے پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، لیکن سائنسدانوں ہمیشہ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے کہ کبوتر اتنی دوری کے باوجود راستہ کیسے تلاش کرتے ہیں۔

جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے کبوتروں کے دماغ کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ تحقیق کے دوران زمین کے مقناطیسی میدان جیسا ایک مصنوعی فیلڈ تیار کیا گیا اور کبوتروں کو اس ماحول میں رکھا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ کبوتر کے دماغ کے وہ حصے جو سمت اور راستہ تلاش کرنے کے ذمہ دار ہیں، اندرونی کان سے جڑے ہوئے ہیں۔ اندرونی کان میں موجود نہایت باریک ننھے بال زمین کے مقناطیسی میدان کی لہروں سے متحرک ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں برقی سگنلز پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سگنلز کبوتروں کو یہ بتاتے ہیں کہ کس سمت میں پرواز کرنی ہے اور منزل کہاں واقع ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اصول آج کے جدید وائرلیس موبائل چارجرز میں بھی استعمال ہوتا ہے، جہاں مقناطیسی فیلڈ میں تبدیلی کے ذریعے برقی لہریں پیدا کر کے موبائل فون کو چارج کیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق فطرت میں موجود یہ نظام جدید ٹیکنالوجی کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے اور قدرت کے راز آج بھی انسان کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔