LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

کبوتر راستہ کیسے نہیں بھولتے؟ سائنسی تحقیق نے حیران کن راز سے پردہ اٹھا دیا

Web Desk

28 January 2026

کبوتروں کو دنیا کے بہترین نیویگیٹرز میں شمار کیا جاتا ہے، اور یہ ہزاروں کلومیٹر دور ہونے کے باوجود کبھی راستہ نہیں بھولتے۔ اگر انہیں کسی نامعلوم مقام پر چھوڑ دیا جائے تو بھی یہ بالکل اپنے گھر یا مقررہ منزل تک واپس پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

قدیم زمانے میں کبوتروں کو اسی خوبی کی وجہ سے پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، لیکن سائنسدانوں ہمیشہ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے کہ کبوتر اتنی دوری کے باوجود راستہ کیسے تلاش کرتے ہیں۔

جدید تحقیق میں سائنسدانوں نے کبوتروں کے دماغ کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ تحقیق کے دوران زمین کے مقناطیسی میدان جیسا ایک مصنوعی فیلڈ تیار کیا گیا اور کبوتروں کو اس ماحول میں رکھا گیا۔ نتائج حیران کن تھے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ کبوتر کے دماغ کے وہ حصے جو سمت اور راستہ تلاش کرنے کے ذمہ دار ہیں، اندرونی کان سے جڑے ہوئے ہیں۔ اندرونی کان میں موجود نہایت باریک ننھے بال زمین کے مقناطیسی میدان کی لہروں سے متحرک ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں برقی سگنلز پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سگنلز کبوتروں کو یہ بتاتے ہیں کہ کس سمت میں پرواز کرنی ہے اور منزل کہاں واقع ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی اصول آج کے جدید وائرلیس موبائل چارجرز میں بھی استعمال ہوتا ہے، جہاں مقناطیسی فیلڈ میں تبدیلی کے ذریعے برقی لہریں پیدا کر کے موبائل فون کو چارج کیا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق فطرت میں موجود یہ نظام جدید ٹیکنالوجی کے لیے ایک متاثر کن مثال ہے اور قدرت کے راز آج بھی انسان کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔