LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کے سعودی شہروں ینبع اور جازان میں آرامکو تنصیبات پر میزائل و ڈرون حملے محسن نقوی کا تربت میں ایف سی کے جدید ترین ہسپتال کا افتتاح شام میں مسافر بس اور فورسز کی گاڑی میں تصادم، 35 افراد جاں بحق ایچ آئی وی سے بچاؤ کی کم قیمت دوا، بڑی خبر آگئی ایران کا آپریشن نصر 2 میں 200 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ دنیا میں پہلی بار ایبولا کی نئی ویکسین کا انسانی ٹرائل شروع سمندر میں ڈوبے بازنطینی جہاز کے ملبے سے سونے کے زیورات دریافت ایران پر ناکہ بندی بدستور نافذ، 2 جہاز ناکارہ بنائے، 12 کا راستہ تبدیل کر دیا: امریکی فوج گوگل کا صارفین کے لئے نیا سکیورٹی فیچر متعارف امریکا نے آبنائے ہرمز میں 2 جہازوں کو ناکارہ بنا دیا، سینٹ کام ایران نے اسرائیل کو جنگ میں دوبارہ کودنے سے خبردار کر دیا عباس عراقچی کا کایا کلاس سے ٹیلی فونک رابطہ، ایرانی جہاز پر یوکرینی حملے کی مذمت جنوبی لبنان کے قصبے سے اسرائیلی فوج کا انخلا، ملبے تلے سے 4 افراد کی لاشیں برآمد جنوبی لبنان کے قصبوں پر اسرائیلی بمباری، نبطیہ میں زور دار دھماکا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی صحافیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ

پاکستان 2035 تک اپنی 90 فیصد بجلی کلین اینڈ گرین انرجی سے حاصل کرے گا،اویس لغاری

Web Desk

6 December 2025

وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے لمز یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایشیا انرجی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاور سیکٹر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور صارف دوست بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2035 تک اپنی 90 فیصد بجلی کلین اینڈ گرین انرجی سے حاصل کرے گا اور آج ملک کی 52 فیصد بجلی صاف توانائی سے پیدا ہونا ایک تاریخی سنگ میل ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان شمسی توانائی کے انقلاب میں نمایاں پیش رفت کر چکا ہے اور عوام نے خود 50 گیگا واٹ سولر پینلز نصب کیے ہیں۔ پاکستان ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شمسی مارکیٹ کا حصہ بن چکا ہے اور 17 گیگا واٹ سولر درآمد کیے جا چکے ہیں۔اویس لغاری نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری، سرکلر ڈیٹ میں کمی، ڈی کاربنائزیشن اور پاور سیکٹر کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ بلوچستان کے ٹیوب ویلز سولرائز کرنے سے پانی اور توانائی کے بحرانوں کا حل ممکن ہو سکے گا۔ ’’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘‘ ایپ سے صارفین کو بااختیار بنایا گیا جبکہ 118 ہیلپ لائن کو قومی معیار قرار دے دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی میں ایک فیصد سے کم حصہ ڈالتا ہے لیکن خطرات میں ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے۔ ایشیائی ممالک سالانہ 300 ارب ڈالر کے موسمیاتی نقصانات برداشت کر رہے ہیں اور توانائی منتقلی اس خطے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صاف توانائی کے بغیر پاکستان کی معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ ماضی میں پاور سیکٹر میں مربوط منصوبہ بندی کا فقدان تھا جبکہ موجودہ حکومت نے پیداوار اور ٹرانسمیشن کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اب حکومت بجلی نہیں خریدے گی بلکہ مسابقتی بنیادوں پر انرجی مارکیٹ قائم کی جا رہی ہے۔ صنعتی ٹیرف میں 16 روپے کمی کی جا چکی ہے تاہم آئی ایم ایف معاہدے کے باعث سبسڈی دینا ممکن نہیں۔انہوں نے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ صارف دوست ہے لیکن ڈیڑھ لاکھ صارفین کو کروڑوں صارفین پر بوجھ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس حوالے سے آئندہ چند ہفتوں میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی جبکہ CTBCM پالیسی پہلی سہ ماہی میں فعال کر دی جائے گی۔اویس لغاری نے کہا کہ عالمی توانائی سفارتکاری تیزی سے بدل رہی ہے اور ایشیا کو اس میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کلین اینڈ گرین انرجی قومی ترجیح ہے اور پاکستان توانائی کے شعبے میں جدید اور پائیدار تبدیلی کے لیے پرعزم ہے