LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

پاکستان 2035 تک اپنی 90 فیصد بجلی کلین اینڈ گرین انرجی سے حاصل کرے گا،اویس لغاری

Web Desk

6 December 2025

وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے لمز یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایشیا انرجی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاور سیکٹر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور صارف دوست بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2035 تک اپنی 90 فیصد بجلی کلین اینڈ گرین انرجی سے حاصل کرے گا اور آج ملک کی 52 فیصد بجلی صاف توانائی سے پیدا ہونا ایک تاریخی سنگ میل ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان شمسی توانائی کے انقلاب میں نمایاں پیش رفت کر چکا ہے اور عوام نے خود 50 گیگا واٹ سولر پینلز نصب کیے ہیں۔ پاکستان ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شمسی مارکیٹ کا حصہ بن چکا ہے اور 17 گیگا واٹ سولر درآمد کیے جا چکے ہیں۔اویس لغاری نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری، سرکلر ڈیٹ میں کمی، ڈی کاربنائزیشن اور پاور سیکٹر کی ڈیجیٹائزیشن حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ بلوچستان کے ٹیوب ویلز سولرائز کرنے سے پانی اور توانائی کے بحرانوں کا حل ممکن ہو سکے گا۔ ’’اپنا میٹر اپنی ریڈنگ‘‘ ایپ سے صارفین کو بااختیار بنایا گیا جبکہ 118 ہیلپ لائن کو قومی معیار قرار دے دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی میں ایک فیصد سے کم حصہ ڈالتا ہے لیکن خطرات میں ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے۔ ایشیائی ممالک سالانہ 300 ارب ڈالر کے موسمیاتی نقصانات برداشت کر رہے ہیں اور توانائی منتقلی اس خطے کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صاف توانائی کے بغیر پاکستان کی معیشت مستحکم نہیں ہو سکتی۔ ماضی میں پاور سیکٹر میں مربوط منصوبہ بندی کا فقدان تھا جبکہ موجودہ حکومت نے پیداوار اور ٹرانسمیشن کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اب حکومت بجلی نہیں خریدے گی بلکہ مسابقتی بنیادوں پر انرجی مارکیٹ قائم کی جا رہی ہے۔ صنعتی ٹیرف میں 16 روپے کمی کی جا چکی ہے تاہم آئی ایم ایف معاہدے کے باعث سبسڈی دینا ممکن نہیں۔انہوں نے بتایا کہ نیٹ میٹرنگ صارف دوست ہے لیکن ڈیڑھ لاکھ صارفین کو کروڑوں صارفین پر بوجھ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس حوالے سے آئندہ چند ہفتوں میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی جبکہ CTBCM پالیسی پہلی سہ ماہی میں فعال کر دی جائے گی۔اویس لغاری نے کہا کہ عالمی توانائی سفارتکاری تیزی سے بدل رہی ہے اور ایشیا کو اس میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کلین اینڈ گرین انرجی قومی ترجیح ہے اور پاکستان توانائی کے شعبے میں جدید اور پائیدار تبدیلی کے لیے پرعزم ہے