LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت: دفترِ خارجہ فیلڈ مارشل کی تجویز پر ایران چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے: اسماعیل بقائی سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کر گئے الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل میں اے آئی کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کا وفاق سے پہلا رابطہ مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے شیخوپورہ: موٹروے پولیس کے 436 افسران کی 15ویں بنیادی پاسنگ آؤٹ پریڈ تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

کورونا کے بعد اب جان لیوا نیپا وائرس: خطرے کے پیشِ نظر سخت اسکریننگ کا آغاز

Web Desk

4 February 2026

بھارت میں نیپا وائرس کے دو تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان نے ملک میں داخل ہونے والے مسافروں کے لیے سخت صحت اسکریننگ اقدامات نافذ کر دیے ہیں، تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

سرکاری حکام کے مطابق ملک کے تمام داخلی پوائنٹس، جن میں ہوائی اڈے، زمینی سرحدیں اور سمندری بندرگاہیں شامل ہیں، پر آنے والے ہر مسافر کی تھرمل اسکریننگ، طبی معائنہ اور گزشتہ 21 دنوں کی سفری تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی مسافر نیپا وائرس سے متاثرہ علاقوں سے بیماری لے کر ملک میں داخل نہ ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ احتیاطی اقدامات دیگر ایشیائی ممالک جیسے تھائی لینڈ، سنگاپور، ہانگ کانگ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویتنام کی طرز پر اختیار کیے ہیں، جہاں ہوائی اڈوں پر صحت کے چیکس مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نیپا وائرس ایک انتہائی جان لیوا بیماری ہے، جس کی تاحال کوئی ویکسین دستیاب نہیں اور اس کی اموات کی شرح کافی زیادہ ہے۔ یہ وائرس عموماً پھلوں والے چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں محدود انسانی رابطے سے بھی پھیل سکتا ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ نیپا وائرس پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب تک بڑے پیمانے پر اس کے پھیلاؤ کی اطلاعات نہیں ہیں۔ تاہم خطے کے دیگر ممالک احتیاطی تدابیر کے طور پر سخت نگرانی اور اسکریننگ کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔