LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
الجزائر کا اماراتی طیاروں کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا اعلان این سی سی آئی اے میں نفری کم، وفاقی پولیس کا 23 افسران بھجوانے کا فیصلہ روس کے سرحدی علاقے میں یوکرینی ڈرون حملہ، 2 افراد ہلاک، 7 زخمی روس کے یوکرین کے صنعتی شہر پاولو ہراد پر حملے، 7 افراد ہلاک، 76 زخمی سعودی عرب کو حوثی حملوں کے خلاف دفاع کا حق حاصل ہے، عبدالعزیز الوصل جماعت اسلامی کا لانگ مارچ، مرکزی قیادت نے تاریخ کے تعین کا اختیار حافظ نعیم کو دے دیا نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ناکہ بندی اور معاشی دباؤ پر مبارکباد نائن الیون کے زخم آج بھی تازہ، دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: ٹرمپ ایران زخمی جانور کی طرح آخری وقت میں ہے، امریکی وزیر خزانہ کا دعویٰ بلوچستان میں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اقدامات جاری رہیں گے: کور کمانڈر کوئٹہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کیخلاف جنگ مکمل کرینگے: پیٹ ہیگسیتھ وزیراعظم بجلی کی لوڈشیڈنگ پر برہم، 2 گھنٹے سے زائد نہ کرنے کا حکم ایرانی نائب صدر کا یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں پر اظہارِ مسرت سندھ اسمبلی نے رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی ایران کی آئی اے ای اے پر کڑی تنقید، جنگ کا جواز فراہم کرنے کا الزام

کورونا کے بعد اب جان لیوا نیپا وائرس: خطرے کے پیشِ نظر سخت اسکریننگ کا آغاز

Web Desk

4 February 2026

بھارت میں نیپا وائرس کے دو تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان نے ملک میں داخل ہونے والے مسافروں کے لیے سخت صحت اسکریننگ اقدامات نافذ کر دیے ہیں، تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

سرکاری حکام کے مطابق ملک کے تمام داخلی پوائنٹس، جن میں ہوائی اڈے، زمینی سرحدیں اور سمندری بندرگاہیں شامل ہیں، پر آنے والے ہر مسافر کی تھرمل اسکریننگ، طبی معائنہ اور گزشتہ 21 دنوں کی سفری تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی مسافر نیپا وائرس سے متاثرہ علاقوں سے بیماری لے کر ملک میں داخل نہ ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ احتیاطی اقدامات دیگر ایشیائی ممالک جیسے تھائی لینڈ، سنگاپور، ہانگ کانگ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویتنام کی طرز پر اختیار کیے ہیں، جہاں ہوائی اڈوں پر صحت کے چیکس مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نیپا وائرس ایک انتہائی جان لیوا بیماری ہے، جس کی تاحال کوئی ویکسین دستیاب نہیں اور اس کی اموات کی شرح کافی زیادہ ہے۔ یہ وائرس عموماً پھلوں والے چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں محدود انسانی رابطے سے بھی پھیل سکتا ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ نیپا وائرس پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب تک بڑے پیمانے پر اس کے پھیلاؤ کی اطلاعات نہیں ہیں۔ تاہم خطے کے دیگر ممالک احتیاطی تدابیر کے طور پر سخت نگرانی اور اسکریننگ کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔