LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کو سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ دبئی کے مشہور ہیومنائڈ روبوٹ ’بو سنیدہ‘ نے’موزہ‘ نامی روبوٹ سے شادی کر لی ایران اور امریکا 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے: امریکی نشریاتی ادارے کا دعویٰ تین شہروں میں غیر ملکی صحافیوں کو آؤٹ ڈور کوریج کے لیے این او سی لازمی قرار امریکی محکمہ دادگستری کی تاریخ کی سب سے بڑی مہم, 10افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا اقدام ایرانی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ بدستور کھلا ہے، سینٹ کام صدر ٹرمپ کی فنڈ ریزنگ تقریب سے چند گھنٹے قبل گالف کلب سے مسلح شخص گرفتار روس نے کیف کے متعدد علاقوں پر بیلسٹک میزائل داغ دیئے، ہنگامی صورتحال پیدا امریکا ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ثالثی سے نمایاں پیشرفت ہوئی: قطر جنوبی کوریا میں شدید گرمی کی لہر، 16 افراد جان کی بازی ہار گئے ایتھوپیا کے شمالی علاقے امہارا میں شدید بارشیں، لینڈ سلائیڈنگ، 14 افراد ہلاک بھارت کے 5 اگست کے اقدامات عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں: عطا تارڑ یمن کے قریب بحیرۂ احمر میں بھارتی کارگو جہاز پروجیکٹائل حملے کے بعد ڈوب گیا سانحہ گل پلازہ: تفتیشی افسر کو تحقیقات مکمل کرنے کیلئے 9 اگست تک مہلت مل گئی ٹرمپ کا امیرِ قطر سے ٹیلیفونک رابطہ، خلیج میں استحکام کیلئے مذاکرات کی اہمیت پر زور

کورونا کے بعد اب جان لیوا نیپا وائرس: خطرے کے پیشِ نظر سخت اسکریننگ کا آغاز

Web Desk

4 February 2026

بھارت میں نیپا وائرس کے دو تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان نے ملک میں داخل ہونے والے مسافروں کے لیے سخت صحت اسکریننگ اقدامات نافذ کر دیے ہیں، تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

سرکاری حکام کے مطابق ملک کے تمام داخلی پوائنٹس، جن میں ہوائی اڈے، زمینی سرحدیں اور سمندری بندرگاہیں شامل ہیں، پر آنے والے ہر مسافر کی تھرمل اسکریننگ، طبی معائنہ اور گزشتہ 21 دنوں کی سفری تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی مسافر نیپا وائرس سے متاثرہ علاقوں سے بیماری لے کر ملک میں داخل نہ ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ احتیاطی اقدامات دیگر ایشیائی ممالک جیسے تھائی لینڈ، سنگاپور، ہانگ کانگ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویتنام کی طرز پر اختیار کیے ہیں، جہاں ہوائی اڈوں پر صحت کے چیکس مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نیپا وائرس ایک انتہائی جان لیوا بیماری ہے، جس کی تاحال کوئی ویکسین دستیاب نہیں اور اس کی اموات کی شرح کافی زیادہ ہے۔ یہ وائرس عموماً پھلوں والے چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں محدود انسانی رابطے سے بھی پھیل سکتا ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ نیپا وائرس پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب تک بڑے پیمانے پر اس کے پھیلاؤ کی اطلاعات نہیں ہیں۔ تاہم خطے کے دیگر ممالک احتیاطی تدابیر کے طور پر سخت نگرانی اور اسکریننگ کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔