LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی موجودہ قیادت تصادم چاہتی ہے: قمر زمان کائرہ آذربائیجانی خاتون ڈیانا پاکستانی پولیس افسران کے ساتھ باکو روانہ پی ٹی آئی خود کو دہشت گردی کی سہولت کار ثابت کر رہی ہے: گورنر کے پی

کورونا کے بعد اب جان لیوا نیپا وائرس: خطرے کے پیشِ نظر سخت اسکریننگ کا آغاز

Web Desk

4 February 2026

بھارت میں نیپا وائرس کے دو تصدیق شدہ کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان نے ملک میں داخل ہونے والے مسافروں کے لیے سخت صحت اسکریننگ اقدامات نافذ کر دیے ہیں، تاکہ وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

سرکاری حکام کے مطابق ملک کے تمام داخلی پوائنٹس، جن میں ہوائی اڈے، زمینی سرحدیں اور سمندری بندرگاہیں شامل ہیں، پر آنے والے ہر مسافر کی تھرمل اسکریننگ، طبی معائنہ اور گزشتہ 21 دنوں کی سفری تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی مسافر نیپا وائرس سے متاثرہ علاقوں سے بیماری لے کر ملک میں داخل نہ ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یہ احتیاطی اقدامات دیگر ایشیائی ممالک جیسے تھائی لینڈ، سنگاپور، ہانگ کانگ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویتنام کی طرز پر اختیار کیے ہیں، جہاں ہوائی اڈوں پر صحت کے چیکس مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق نیپا وائرس ایک انتہائی جان لیوا بیماری ہے، جس کی تاحال کوئی ویکسین دستیاب نہیں اور اس کی اموات کی شرح کافی زیادہ ہے۔ یہ وائرس عموماً پھلوں والے چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں محدود انسانی رابطے سے بھی پھیل سکتا ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ نیپا وائرس پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب تک بڑے پیمانے پر اس کے پھیلاؤ کی اطلاعات نہیں ہیں۔ تاہم خطے کے دیگر ممالک احتیاطی تدابیر کے طور پر سخت نگرانی اور اسکریننگ کے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔