LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینی خاندانوں کے گھروں کا محاصرہ بادامی باغ میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید وزیراعظم شہباز شریف سے ناروے کے وزیر خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال پنجاب حکومت کا انتظامی اخراجات کم کرنے کیلئے 101 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ اسحاق ڈار سے صدر ن لیگ آزاد کشمیر کی ملاقات، حکومت سازی سے متعلق امور پر گفتگو ناروے کے وزیر خارجہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس 17 اگست کو طلب کرنے کا فیصلہ براڈ پیک حادثے میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام جناح-1 رکھ دیا گیا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ اسرائیلی فورسز جنوبی لبنان میں گھروں کو تباہ اور نذرِ آتش کر رہی ہے: لبنانی میڈیا ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی مسلسل 3 ماہ تک مہنگی ہونے کا امکان کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے 8 اہلکاروں کو اغوا کرلیا: آزاد کشمیر پولیس

اسحاق ڈار اور عباس عراقچی میں رابطہ، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری پر زور

Web Desk

12 July 2026

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔ اس گفتگو کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی شدید فوجی کشیدگی کے تناظر میں تمام فریقین کو تحمل، کشیدگی میں کمی اور سفارت کاری کی طرف لانا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ جون 2026 کے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ (اسلام آباد ایم او یو) کے مطابق کشیدگی میں کمی کی راہ اختیار کریں۔ واضح رہے کہ یہ معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان 18 جون کو طے پانے والا ایک 14 نکاتی عبوری امن معاہدہ ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ تھا اور پاکستان نے اس میں ثالث کے طور پر دستخط کیے تھے۔ یہ امن کوششیں اس وقت شروع ہوئیں جب فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے گئے، اور جواباً ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جس سے عالمی سطح پر ایندھن کا شدید بحران پیدا ہوا۔

اگرچہ اسلام آباد معاہدے سے توانائی بحران اور معاشی دباؤ میں کمی کی امید پیدا ہوئی تھی، لیکن گزشتہ چند روز کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ حملوں کے تبادلے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ آج بھی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے جہاں امریکہ نے ایران پر 140 اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جواباً ایک کنٹینر جہاز کو نشانہ بنانے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے اور خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر حملے تیز کرنے کا اعلان کیا۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اردن، کویت، عمان اور قطر میں امریکی اور اس کے اتحادیوں کے فوجی اڈوں، ریڈار سائٹس، اور کمانڈ اینڈ کنٹرول تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

ان مخدوش حالات کے پیشِ نظر، اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب پر زور دیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنا تعمیری اور ثالثی کا کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ہے۔