LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا وزیراعظم کا گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ، اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کی ضمانت حکومت اپوزیشن ہاتھ ملائیں ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ نہ کریں: لیاقت بلوچ جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے واپس منتقل کرنا بدقسمتی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز عمران خان کا شفا ہسپتال میں تفصیلی معائنہ، صحت مند قرار، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطا تارڑ بلوچستان میں دشمن عناصر ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں: فیلڈ مارشل پاکستان اور شام کا دفاعی شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پابندیاں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب روس کے یوکرین میں مزید فضائی حملے، 17 افراد ہلاک، 40 زخمی

پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام متعارف، جدید مالیاتی نظام کی جانب اہم پیش رفت

Web Desk

21 August 2026

اسلام آباد: مشیر وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے بتایا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر طویل مدتی فنانسنگ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے اپنا پہلا ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس (DPR) پروگرام باقاعدہ طور پر متعارف کروا دیا ہے۔اس تاریخی پہل کے تحت انٹرنیشنل فائنانس کارپوریشن (IFC – World Bank Group) اور بینک الفلاح کے درمیان ایک اہم پروجیکٹ معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میں وفاقی وزیرِ خزانہ سناتور محمد اورنگزیب، آئی ایف سی کی ریجنل ڈائریکٹر مومنہ اعجاز الدین، بینک الفلاح کے صدر عاطف باجوہ اور دیگر اعلٰی حکام نے شرکت کی۔تفصیلات کا اشتراک کرتے ہوئے خرم شہزاد نے بتایا کہ ڈی پی آر پروگرام عالمی سرمایہ کاروں اور مارکیٹس سے غیر ملکی کرنسی میں طویل مدتی فنانسنگ حاصل کرنے کا ایک نیا اور جدید مالیاتی ماڈل ہے۔ اس پروگرام کے تحت ابتدائی مرحلے میں 100 ملین امریکی ڈالر تک کی مالی فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم پیشرفت سے پاکستان کے مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا ہوگا، عالمی ادارہ جاتی و نجی سرمایہ کاروں تک ملکی رسائی میں اضافہ ہوگا اور پیداواری معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ یہ ماڈل دیگر تمام پاکستانی بینکوں کے لیے بھی عالمی کیپٹل مارکیٹس سے منسلک ہونے اور طویل مدتی سرمایہ حاصل کرنے کی ایک مضبوط اور نئی مثال قائم کرے گا۔