LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ

کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں: وزیراعظم

Web Desk

11 September 2026

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم نے کاروباری برادری کی سہولت اور ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے اہم فیصلوں کی منظوری دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت تاجر برادری کو سہولیات کی فراہمی اور تجارتی عمل کو آسان بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ پاکستان کو عالمی سپلائی چینز کا مؤثر حصہ بنایا جا سکے۔ انہوں نے تجارتی طریقہ کار میں حائل تاخیر کے خاتمے، کاروباری لاگت میں کمی اور قومی بندرگاہوں پر تمام متعلقہ اداروں کو ‘ون ونڈو’ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے تجارتی عمل کو تیز کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال بڑھانے، نان ٹیرف اقدامات کے جامع آڈٹ اور پاکستانی بندرگاہوں تک براہِ راست شپنگ لائنز لانے کی بھی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس بنانے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو خصوصی ریلیف دینے کا حکم دیا گیا۔ وزیراعظم نے تمام بندرگاہوں کے لیے ‘ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم’ کے اہداف منظور کیے، جس کے تحت رواں مالی سال کے اختتام تک پری ارائیول کلیئرنس 30 فیصد، گرین چینل کا حصہ 65 فیصد تک بڑھانا اور مجاز اقتصادی آپریٹرز (AEOs) کی تعداد 50 سے زائد کرنا شامل ہے۔ نیز نان ٹیرف اقدامات کے جائزے کے لیے قائم ورکنگ گروپ کو ایک ماہ کے اندر روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔