LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
علیم خان صرف بیان نہ دیں، استعفیٰ دے کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں: سوشل میڈیا صارفین کا شدید ردِعمل امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں لگا دیں سینٹ کام نے ایران کے امریکی طیارے تباہ کرنے کے دعوے مسترد کر دیئے ہمارے مخالفین آپس میں کسی بات پر متفق نہیں، ہماری سیاست صرف ترقی ہے: احسن اقبال بھارت کی موجودہ قیادت نفرت کی سیاست سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے: سفیر فیصل نیاز ترمذی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد جہنم واصل بھارت فلسطین کیخلاف اسرائیل کو اسلحہ اور دفاعی پرزے فراہم کرتا رہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل ترک وزیر خارجہ کی حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات، امن مذاکرات پر زور اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کا ریٹائرڈ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ وزیراعظم کی بجلی چوری کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی ایران کا اردن میں امریکی ایئربیس پر حملہ، تین ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

اپوزیشن نے حکومت سے مذاکرات کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی، بات آئین اور قانون کی بالادستی پر ہوگی: مصطفیٰ نواز کھوکھر

Web Desk

25 December 2025

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے حکومت سے مذاکرات کے لیے کسی قسم کی شرط رکھنے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اپوزیشن نے مذاکرات کے لیے کوئی شرط عائد نہیں کی۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پارلیمان کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی جیسے بنیادی اصولوں پر بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جاچکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک شدید سیاسی اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور جمہوری نظام میں دروازے بند نہیں کیے جانے چاہییں بلکہ مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ضروری ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اپوزیشن بات چیت سے گریزاں ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن نے بغیر کسی شرط کے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے ووٹ کو تسلیم کرنے کا ایجنڈا پیش کیا ہے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اب سب سے پہلے حکومت کی سنجیدگی کو پرکھا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ اس پیشکش پر حکومت کا ردِعمل کیا آتا ہے۔

ادھر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات پر آمادگی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی استحکام کی جانب اہم قدم کہا ہے۔