LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سمیت 4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارف لندن میں مقیم پاکستانیوں کو جائیداد کی ڈیجیٹل منتقلی کی سہولت مل گئی فوجی دستوں سے مکمل رابطہ، استعفیٰ نہیں دوں گا اور ڈٹا رہوں گا: ایرانی صدر پنجاب اسمبلی: 5 اگست 2019 کے کشمیر مخالف بھارتی اقدامات کیخلاف قرارداد جمع پاکستان کی چین کو ایک ارب30 کروڑ ڈالر کی ری فنانسنگ کیلئے باضابطہ درخواست پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ملک بھر میں چہلم امام حسینؓ و شہداء کربلا عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے پولیس افسروں اور جوانوں کی عظیم قربانیاں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں: صدر مملکت حج رجسٹریشن کرانے والوں کی تعداد 3 لاکھ 81 ہزار سے تجاوز کر گئی سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے مودی حکومت کو کشمیر میں دہشتگردی کا ذمہ دار قرار دیدیا میانمار میں تربیتی پرواز کے دوران لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ محفوظ رہا مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ کے شمال مشرق میں 5.5 شدت کا زلزلہ واشنگٹن میں جنگل کی آگ بے قابو، 5 ہزار گھر خالی، 600 عمارتیں تباہ ایران کی ناکہ بندی کے دوران 44 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا: امریکی فوج ایران کی امریکا کو بحری ناکہ بندی پر سخت نتائج کی وارننگ

جنوبی افریقہ میں 60 ہزار سال پرانے زہریلے تیر دریافت

Web Desk

26 January 2026

جنوبی افریقہ میں ماہرین نے دنیا کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی شناخت کر لی ہے، جن کی عمر تقریباً 60 ہزار سال بتائی جا رہی ہے۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ دریافت قدیم انسانوں کی شکار کی جدید تکنیکوں اور سائنسی فہم کی واضح مثال ہے۔

جنوبی افریقہ اور سویڈن کے سائنسدانوں پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم نے پتھر کے زمانے سے تعلق رکھنے والے تیروں کی نوکوں پر زہریلے مادے کے آثار دریافت کیے ہیں۔ ان تیروں پر جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے پودے ’’جفبول‘‘ کے زہر کی کیمیائی باقیات موجود تھیں، جو اب تک دریافت ہونے والا دنیا کا قدیم ترین معلوم تیر زہر قرار دیا جا رہا ہے۔

محققین کے مطابق یہ تیروں کے نمونے کوازولو ناٹل کے علاقے میں واقع امہلاتوزانا چٹانی پناہ گاہ سے حاصل کیے گئے تھے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور کے انسان نہ صرف زہریلے پودوں کی خصوصیات سے واقف تھے بلکہ انہیں شکار کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال بھی کرتے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت انسانی ذہانت، منصوبہ بندی اور ماحول سے مطابقت کی ایک شاندار مثال ہے، جو ابتدائی انسانی تہذیب کی سائنسی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے۔