LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل کا این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ، مون سون آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ نیب کی 2026 کی دوسری سہ ماہی میں 2.45 ٹریلین روپے ریکارڈ ریکوری آبنائے ہرمز پر مثبت پیش رفت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایران کو آخری موقع دے دیا، آبنائے ہرمز کل مکمل طور پر کھل جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمدو رفت بحال، معاہدہ جلد طے پا جائے گا: اسکاٹ بیسنٹ کویت میں دھماکوں اور عمان کے قریب کارگو جہاز پر حملے کی اطلاعات روسی اور قطری وزرائے خارجہ کا رابطہ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل تعلیمی انقلاب، 2 برس میں شرح خواندگی 35 فیصد بڑھانے کا ہدف لبنان اور اسرائیل کے مذاکرات شرمندگی اور ذلت کا باعث ہوں گے: حزب اللہ مریم نواز سے خوشاب کے ایم پی ایز کی ملاقات، عوامی مسائل کے حل کی یقین دہانی پاکستان سمیت 4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارف لندن میں مقیم پاکستانیوں کو جائیداد کی ڈیجیٹل منتقلی کی سہولت مل گئی فوجی دستوں سے مکمل رابطہ، استعفیٰ نہیں دوں گا اور ڈٹا رہوں گا: ایرانی صدر پنجاب اسمبلی: 5 اگست 2019 کے کشمیر مخالف بھارتی اقدامات کیخلاف قرارداد جمع پاکستان کی چین کو ایک ارب30 کروڑ ڈالر کی ری فنانسنگ کیلئے باضابطہ درخواست

شمالی کوریا کا امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا پر خطے میں کشیدگی بڑھانے کا الزام

Web Desk

4 August 2026

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے (KCNA) کی رپورٹ کے مطابق پیانگ یانگ نے امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا کے بڑھتے ہوئے عسکری تعاون کو ایشیا پیسیفک خطے کے لیے “نیا سیکیورٹی بحران” قرار دیتے ہوئے شدید خبردار کیا ہے۔ عسکری تجزیہ کار کی تحریر میں امریکی قیادت میں انعقاد پذیر دنیا کی سب سے بڑی بحری مشق ‘رم پیک’ (RIMPAC) پر تنقید کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس میں 30 ہزار سے زائد اہلکاروں، 30 سے زائد جنگی جہازوں، 05 آبدوزوں اور تقریباً 190 طیاروں نے حصہ لیا، جسے شمالی کوریا نے “جارحیت کی پیشگی مشق” قرار دیا۔ پیانگ یانگ نے متنبہ کیا کہ وہ “نئی سطح کے خطرے کا جواب نئی سطح کی دفاعی صلاحیت” سے دے گا۔ دوسری جانب شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے 11 مغربی ممالک کی جانب سے عائد کردہ سائبر خطرات کے الزامات کو بے بنیاد اور سیاسی قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے الٹا امریکا پر سائبر اسپیس کی عسکریت پسندی کا الزام عائد کیا ہے۔