LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

مریضوں کو اسٹروک سے بچانے کیلیے نئی تکنیک وضع

Web Desk

24 March 2026

نیویارک: محققین نے فالج (اسٹروک) سے بچاؤ کے لیے ایک انقلابی تکنیک دریافت کی ہے جس کے ذریعے دل کے ایک مخصوص حصے کو اندر سے مستقل طور پر بند کیا جا سکے گا۔ طبی ماہرین کے مطابق انسانی دل کے اوپری حصے میں بائیں جانب ایک چھوٹا سا پاؤچ ہوتا ہے جسے ‘لیفٹ ایٹریل اپینڈج’ (Left Atrial Appendage) کہا جاتا ہے۔ ‘ایٹریل فِبریلیشن’ یعنی دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے کی صورت میں خون اس پاؤچ میں جمع ہو کر ٹھہر جاتا ہے، جس سے خون کے لوتھڑے بننے لگتے ہیں۔
اگر یہ لوتھڑے اس پاؤچ سے نکل کر دماغ تک پہنچ جائیں تو خون کی روانی متاثر ہوتی ہے جو فالج کا سبب بنتی ہے۔ اس وقت اس کا روایتی علاج خون پتلا کرنے والی ادویات سے کیا جاتا ہے، تاہم ان ادویات کا بڑا نقصان جسم کے کسی بھی حصے سے خون کا بے تحاشہ بہنا ہے جو بعض مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
نئی دریافت شدہ تکنیک میں ‘میگنیٹک گائیڈڈ لیکوئڈ’ (Magnetically Guided Liquid) کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ مائع دل میں داخل ہو کر پاؤچ کو اندر سے مضبوطی سے سیل (Seal) کر دیتا ہے، جس سے وہاں خون جمع ہونے اور لوتھڑے بننے کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس تکنیک کا کامیاب تجربہ فی الحال جانوروں پر کیا گیا ہے، لیکن ماہرین پرامید ہیں کہ مستقبل قریب میں یہ طریقہ ‘ایٹریل فِبریلیشن’ کے مریضوں کے لیے خون پتلا کرنے والی ادویات کا ایک محفوظ اور مستقل متبادل ثابت ہوگا