LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

نیپال میں سیلابی ملبے سے کروڑوں روپے کا سونا اور نقدی برآمد

Web Desk

1 September 2026

کاٹھمنڈو: نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ملبے تلے دب جانے والی ایک بینک کی عمارت سے کروڑوں روپے مالیت کا سونا، نقد رقم اور اہم سرکاری دستاویزات باحفاظت نکال لی گئی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپال پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے کئی گھنٹوں کے آپریشن کے بعد ‘کرشی وکاس بینک’ کی تریشولی ڈھونگے شاخ کے ملبے تلے دبے حفاظتی لاکرز تلاش کیے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بھاری مشینری کی مدد سے نکالے گئے ان لاکرز سے 50 کروڑ نیپالی روپے (تقریباً 500 ملین) مالیت کا سونا، ڈیڑھ کروڑ روپے نقد اور متعدد اہم دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، جنہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں ریسکیو اہلکاروں کو بینک کے بیسمنٹ تک پہنچنے کے لیے کئی فٹ گہرا ملبہ ہٹاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ نیپال میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث درجنوں عمارتیں، گاڑیاں اور تجارتی مراکز مٹی اور ملبے تلے دب گئے ہیں، جبکہ کئی مالیاتی اداروں کو بھی شدید بنیادی ڈھانچے کا نقصان پہنچا ہے۔