LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کا ایم ٹی آنر 25 کی بازیابی کے دوران جانی نقصان پر اظہار تعزیت پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پارلیمانی امور پر مشاورت، اجلاس میں اہم معاملات زیر غور پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے کرسچن میرج بل 2026 کی منظوری دے دی پاکستان ایس سی او سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کیلئے پرعزم ہے: اسحاق ڈار ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت آئی پی پیز نے ملک کی کمر توڑ دی، سسٹم کو بدل کر ضلعی معیشت پر جانا ہوگا، ایس ایم تنویر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے وکلا کی فہرست جیل حکام کے حوالے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات، الوداعی دورہ دبئی سے اسرائیل جانے والی پرواز کی سعودی عرب میں ہنگامی لینڈنگ کے پی حکومت گورننس اور دہشت گردی روکنے میں مکمل ناکام، سیاست کو زندگیوں پر ترجیح دی جا رہی ہے: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ FIA انسداد دہشت گردی ونگ کی بڑی کارروائی، افغانیوں کے منسوخ شدہ شناختی کارڈ بحال کرنے والا نادرا کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرفتار سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ، یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: عطاء تارڑ ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کے لیے بڑا اقدام، سیلز ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر ایف بی آر کا سخت فیصلہ، مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروباری مراکز سیل کرنے کا اعلان ورلڈکپ 2027: پاکستان اور بھارت کو پھر ایک ہی گروپ میں رکھنے کا امکان

ماسکو میں عالمی مذہبی کانفرنس، پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود کی شرکت

Web Desk

30 September 2026

روس کے دارالحکومت ماسکو کے پریزیڈنٹ ہوٹل میں روایتی مذاہب کے سماجی کردار، عالمی امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے موضوع پر ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں پاکستان سمیت 40 ممالک کے وفود اور روس کے 60 سے زائد وفاقی علاقوں سے مذہبی، سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

“روس کے روایتی مذاہب، اتحاد کے استحکام اور معاشرتی ترقی میں کردار” کے عنوان سے منعقدہ اس کانفرنس کا اہتمام روحانی اجتماعِ مسلمینِ روس نے روسی حکومتی اداروں، سفارتی حلقوں اور سماجی تنظیموں کے تعاون سے کیا تھا۔ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی منہاج القرآن انٹرنیشنل کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کی۔

اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ دنیا اس وقت جنگوں، نفرت، تقسیم اور عدم برداشت جیسے سنگین چیلنجز کی لپیٹ میں ہے، جن سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مذہبی اور روحانی قیادت کو آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاہب کے درمیان مکالمہ صرف رسمی کانفرنسوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے معاشروں میں امن، انصاف، برداشت اور انسانی احترام کے فروغ کا عملی ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ علمی، ثقافتی، تعلیمی اور مذہبی روابط کو بھی مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ کانفرنس کے شرکا نے غزہ اور ایران میں متاثر ہونے والے شہریوں کے ساتھ گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جنگی کشیدگی اور شہری ہلاکتوں کی فوری روک تھام کا مطالبہ کیا۔ تقریب میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی گفتگو کی گئی، جہاں شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انسانی فیصلوں، اخلاقی ذمہ داری اور مذہبی اقدار کو ہرگز ٹیکنالوجی کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔کانفرنس کے اختتام پر ایک 14 نکاتی قرارداد منظور کی گئی، جس میں مذہبی ہم آہنگی، روحانی اقدار کے تحفظ، عالمی تنازعات کے پُرامن حل اور ریاستی و مذہبی اداروں کے درمیان تعاون مزید بڑھانے پر زور دیا گیا۔

ماسکو کے مفتی اور روحانی اجتماعِ مسلمینِ روس کے سربراہ البیر حضرت کرگانوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پائیدار عالمی امن کا آغاز ہر ملک کے اندر موجود مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان باہمی احترام سے ہوتا ہے۔ کانفرنس کے بعد ماسکو کے سرکاری کریملن محل میں “ایمان کی طاقت، قوموں کے اتحاد میں” کے عنوان سے ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں روس میں اسلام کی تاریخی موجودگی اور قومی یکجہتی کو دستاویزی فلم کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔