LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ طاس معاہدہ پاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ، یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے: عطاء تارڑ ایف بی آر کا اسٹیل سیکٹر کے لیے بڑا اقدام، سیلز ٹیکس کی نئی شرحیں مقرر ایف بی آر کا سخت فیصلہ، مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروباری مراکز سیل کرنے کا اعلان ورلڈکپ 2027: پاکستان اور بھارت کو پھر ایک ہی گروپ میں رکھنے کا امکان صومالیہ میں ہائی جیک جہاز پر آپریشن، جاں بحق پاکستانی سیکنڈ آفیسر کاشف عمر کے اہل خانہ کا وزیراعظم سے لاشیں مانگنے کی اپیل 9مئی مقدمہ: نامزد ملزم کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست خارج امریکا نے ایران اور روسی اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کا اسرائیل کو فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ امریکا اور اسرائیل اب ایران میں اندورنی تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں: مسعود پزشکیاں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو امیگرینٹس کی تیسرے ملک بے دخلی کی اجازت دے دی اسنوکر کے سابق عالمی چیمپئن گریم ڈوٹ کو 2 بچوں سے جنسی زیادتی کے جر م میں 7 سال قید کی سزا وزیر اعظم شہباز شریف دورہ امریکا اور برطانیہ کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ایران کی صورتحال بہت خراب ہے، نہیں معلوم کہ وہ ابھی ہتھیار ڈالنے والے ہیں یا نہیں: صدر ٹرمپ

ایف بی آر کا سخت فیصلہ، مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے کاروباری مراکز سیل کرنے کا اعلان

Web Desk

30 September 2026

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ٹیکس چوری روکنے اور معاشی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک سخت اقدام اٹھاتے ہوئے مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہ ہونے والے تمام کاروباری مراکز کو سیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں اہم ترامیم کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

نئے قواعد کے مطابق تمام رجسٹرڈ کاروباری اداروں اور مینوفیکچررز کے لیے پروڈکشن مانیٹرنگ، ویڈیو سرویلنس یا ڈیجیٹل آئی سسٹم (Digital Eye System) نصب کرنا اور اسے ایف بی آر کے ساتھ براہِ راست منسلک کرنا لازم ہوگا۔ جو کاروبار اس ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک نہیں ہوں گے، وہ ایف بی آر کی اس نئی کارروائی کی زد میں آئیں گے، اور ضرورت پڑنے پر کاروبار سیل کرنے کے لیے پولیس کی مدد بھی حاصل کی جائے گی۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کاروبار سیل کرنے کا پورا طریقہ کار بھی واضح کر دیا گیا ہے، جس کے تحت:

  • اسسٹنٹ کمشنر یا اس سے اوپر کا مجاز افسر اس حوالے سے اپنی تحریری رپورٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو کو پیش کرے گا۔

  • کمشنر مکمل انکوائری کرنے کے بعد اپنی رپورٹ چیف کمشنر کو ارسال کرے گا، جس کی منظوری کے بعد چیف کمشنر کاروبار سیل کرنے یا نہ کرنے کا تحریری حکم جاری کرے گا۔

  • کارروائی کے دوران کاروباری مقام کا مکمل احاطہ یا اس کا صرف کوئی مخصوص حصہ بھی سیل کیا جا سکے گا، البتہ سیل کرنے سے قبل متعلقہ کاروباری شخص کو تحریری حکم کی کاپی فراہم کی جائے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سیل کیا گیا کاروباری مقام اس وقت تک بند رہے گا جب تک وہ سسٹم کو ایف بی آر کے ساتھ کامیابی سے منسلک نہیں کر لیتے۔ سیل شدہ کاروبار کو کھلوانے کے لیے مالکان کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور لازمی مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنا پڑے گا۔ سسٹم کی تنصیب کے وقت ایف بی آر کی ٹیکنیکل ٹیم موقع پر موجود ہوگی، اور سسٹم کی تنصیب کے بعد کمشنر 3 دن کے اندر تصدیقی سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ الیکٹرانک مانیٹرنگ کے یہ قواعد مرحلہ وار مزید مختلف کاروباروں اور مینوفیکچررز پر بھی لاگو کیے جا سکتے ہیں۔