ملک میں ایڈز کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، قائمہ کمیٹی کا فرضی رپورٹ پر اظہار برہمی
Web Desk
20 February 2026
مہش کمار میلانی کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز اور وزارتِ صحت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر شدید بحث ہوئی۔
کمیٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے وزارتِ صحت کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ رپورٹ میں حقائق کو چھپایا گیا ہے؛ خیبر پختونخوا (KP) میں 2025 کے دوران 40 ہزار مریضوں کا تذکرہ تک نہیں کیا گیا، جبکہ اسلام آباد کے 300 اور بلوچستان کے 8 ہزار کے قریب کیسز بھی رپورٹ سے غائب ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “اگر ایسی ناقص رپورٹ عالمی اداروں کو دی گئی تو یہ ہمارے منہ پر ماری جائے گی اور ملک کی سبکی ہوگی۔”
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ “دس سال کا کام دس ماہ میں نہیں ہو سکتا۔” انہوں نے وضاحت کی کہ ایچ آئی وی کے 3 لاکھ مریضوں کا دعویٰ محض مفروضوں پر مبنی ہے۔ وفاقی وزیر نے فنڈز کی تقسیم پر بھی سوال اٹھایا کہ ‘گلوبل فنڈ’ کا 75 فیصد حصہ این جی اوز کو جا رہا ہے جبکہ حکومت کو صرف 25 فیصد ملتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے 90 فیصد افراد میڈیکل وجوہات کی بنا پر واپس بھیجے جا رہے ہیں، جن کی اب بارڈر ہیلتھ سروسز کے ذریعے اسکریننگ کی جائے گی۔ سندھ میں بچوں میں مرض پھیلنے کی وجہ انہوں نے غیر معیاری سرنجز کے استعمال کو قرار دیا۔
متعلقہ عنوانات
مصنوعی پلکیں بینائی کی دشمن
20 September 2026
جنرل ہسپتال سے جعلی ڈاکٹر گرفتار، مقدمہ درج کر لیا گیا
19 September 2026
پی ایم ڈی سی نے پانچ سالہ بی ڈی ایس پروگرام کا نفاذ موخر کردیا
19 September 2026
نئے انتظامی یونٹس بننے سے کوئی قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال
19 September 2026
جنگلات کی آگ کا دھواں دیگر فضائی آلودگی سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے: تحقیق
19 September 2026
موسیقی ذہنی دباؤ سے بحالی میں مددگار قرار، تحقیق
18 September 2026
مصنوعی مٹھاس سے فالج کا خطرہ، نئی تحقیق میں دماغی خلیوں کے نقصان کا خدشہ
18 September 2026
پاکستان میں ہیگزویلنٹ ویکسین متعارف کروانے کی منظوری دے دی گئی
18 September 2026