LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا 4 فلسطین نواز کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ، تیونس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو متاثر نہیں کرے گا، ڈنمارک اسرائیلی فوج کی غزہ اور جنوبی لبنان میں بمباری، غزہ میں 3 افراد شہید

ملک میں ایڈز کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، قائمہ کمیٹی کا فرضی رپورٹ پر اظہار برہمی

Web Desk

20 February 2026

مہش کمار میلانی کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز اور وزارتِ صحت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر شدید بحث ہوئی۔

کمیٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے وزارتِ صحت کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ رپورٹ میں حقائق کو چھپایا گیا ہے؛ خیبر پختونخوا (KP) میں 2025 کے دوران 40 ہزار مریضوں کا تذکرہ تک نہیں کیا گیا، جبکہ اسلام آباد کے 300 اور بلوچستان کے 8 ہزار کے قریب کیسز بھی رپورٹ سے غائب ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “اگر ایسی ناقص رپورٹ عالمی اداروں کو دی گئی تو یہ ہمارے منہ پر ماری جائے گی اور ملک کی سبکی ہوگی۔”

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ “دس سال کا کام دس ماہ میں نہیں ہو سکتا۔” انہوں نے وضاحت کی کہ ایچ آئی وی کے 3 لاکھ مریضوں کا دعویٰ محض مفروضوں پر مبنی ہے۔ وفاقی وزیر نے فنڈز کی تقسیم پر بھی سوال اٹھایا کہ ‘گلوبل فنڈ’ کا 75 فیصد حصہ این جی اوز کو جا رہا ہے جبکہ حکومت کو صرف 25 فیصد ملتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے 90 فیصد افراد میڈیکل وجوہات کی بنا پر واپس بھیجے جا رہے ہیں، جن کی اب بارڈر ہیلتھ سروسز کے ذریعے اسکریننگ کی جائے گی۔ سندھ میں بچوں میں مرض پھیلنے کی وجہ انہوں نے غیر معیاری سرنجز کے استعمال کو قرار دیا۔