LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا 96 گھنٹوں میں ایران پر بڑا حملہ کرسکتا ہے: امریکی میڈیا کا دعویٰ احسن بھون نے کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف 5 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا، ڈیفیمیشن ٹربیونل کا نوٹس جاری سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم اور عسکری قیادت کی شرکت حوثی ملیشیا کے حملوں کے باعث ریاض ایئرپورٹ کی 86 فیصد پروازیں منسوخ کے پی پولیس کو جدید ساز و سامان کی فراہمی، اے پی سیز، ایمبولینسز افسران کے حوالے ایرانی قوم بموں سے زیادہ طاقتور، دشمن اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا: ایرانی فوج اسرائیل کا انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کا ارادہ نہیں: وزیر دفاع گورنر خیبر پختونخوا کی پشاور ماسٹر پلان کے 180 روزہ اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت پاکستان اور امریکا کا توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ذوالفقار علی بھٹو کا بمبئی جائیدادوں پر 9 سالہ قانونی معرکہ ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، ساڑھے 21 ارب ڈالر تک پہنچ گئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال کی رہائش گاہ آمد، خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت لاہور ہائیکورٹ کا نیا ججز روسٹر جاری، 2 نومبر سے 24 دسمبر تک بنچز مقدمات سنیں گے سٹیٹ بینک نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کردیا، شرح 12 فیصد مقرر پاکستان اور ایتھوپیا کا تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق

ملک میں ایڈز کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، قائمہ کمیٹی کا فرضی رپورٹ پر اظہار برہمی

Web Desk

20 February 2026

مہش کمار میلانی کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں ایڈز کے بڑھتے ہوئے کیسز اور وزارتِ صحت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ پر شدید بحث ہوئی۔

کمیٹی کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے وزارتِ صحت کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ رپورٹ میں حقائق کو چھپایا گیا ہے؛ خیبر پختونخوا (KP) میں 2025 کے دوران 40 ہزار مریضوں کا تذکرہ تک نہیں کیا گیا، جبکہ اسلام آباد کے 300 اور بلوچستان کے 8 ہزار کے قریب کیسز بھی رپورٹ سے غائب ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “اگر ایسی ناقص رپورٹ عالمی اداروں کو دی گئی تو یہ ہمارے منہ پر ماری جائے گی اور ملک کی سبکی ہوگی۔”

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کمیٹی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ “دس سال کا کام دس ماہ میں نہیں ہو سکتا۔” انہوں نے وضاحت کی کہ ایچ آئی وی کے 3 لاکھ مریضوں کا دعویٰ محض مفروضوں پر مبنی ہے۔ وفاقی وزیر نے فنڈز کی تقسیم پر بھی سوال اٹھایا کہ ‘گلوبل فنڈ’ کا 75 فیصد حصہ این جی اوز کو جا رہا ہے جبکہ حکومت کو صرف 25 فیصد ملتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے 90 فیصد افراد میڈیکل وجوہات کی بنا پر واپس بھیجے جا رہے ہیں، جن کی اب بارڈر ہیلتھ سروسز کے ذریعے اسکریننگ کی جائے گی۔ سندھ میں بچوں میں مرض پھیلنے کی وجہ انہوں نے غیر معیاری سرنجز کے استعمال کو قرار دیا۔