LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں شہید ہونے والوں کی نماز جنازہ ادا تحریک تحفظ آئین کا اجلاس، 27 ستمبر کا احتجاج ملک بھر میں پھیلانے کا فیصلہ وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کا پورے پاکستان میں کامیاب اجرا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو 20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حکومت تحریک انصاف کو سپیس دینے کیلئے تیار نہیں: فواد چودھری لندن سے بنگلادیش جانیوالی پرواز میں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی ویڈیو وائرل امریکا میں تربیتی مشق کے دوران ایف 16 طیارہ گر کر تباہ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس اہلکاروں کی چھٹیوں پر پابندی اسلام آباد میں احتجاج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: محسن نقوی پٹرول کی قیمت میں اضافہ عوام کی مشکلات بڑھا رہا ہے، گورنر خیبر پختونخوا کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکہ،15افراد شہید،25 افراد زخمی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا؛ بنیادی حقوق پر آئینی توازن قائم رکھنے کا حکم ایران سے ڈیل ہو نہ ہو، جنگ میں جیت امریکا کی ہوگی: ٹرمپ چھوٹے کاروباروں کے لیے شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل فنانسنگ کی منظوری پاکستان کے عوام کی بدحالی کسی بھی سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں: حافظ نعیم الرحمان

کروڑوں خرچ کرنے کے باوجود ویکسین سے متعلق منفی رجحانات میں کمی نہیں آئی، مصطفیٰ کمال

Web Desk

14 April 2026

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ یونیسف کی جانب سے ویکسین آگاہی کے لیے کروڑوں ڈالر کی خطیر رقم خرچ کیے جانے کے باوجود عوامی سطح پر ویکسین سے متعلق منفی تصورات اور رجحانات میں خاطر خواہ کمی نہیں آسکی۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نام پر ملنے والے فنڈز کا درست اور مؤثر استعمال ریاست اور وزارت صحت کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر نتائج مہم کے بنیادی مقاصد کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آگاہی مہم کا اصل مقصد ویکسین سے انکار کرنے والوں کی شرح کو کم کرنا تھا، لیکن اب بھی عوام کے ذہنوں میں منفی پروپیگنڈہ موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض فنڈز خرچ کرنا کافی نہیں بلکہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ خطیر رقم کہاں اور کیسے استعمال ہوئی۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ ہیلتھ کیئر کا حقیقی مقصد لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے اور اس کے لیے عوامی اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے وزارت صحت کے حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ ویکسین کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب تمام اقدامات نتائج پر مبنی ہونے چاہئیں اور کسی بھی سطح پر فنڈز کے غیر مؤثر استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ ہیلتھ کیئر سسٹم میں اصلاحات لائی جائیں تاکہ عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے مشن کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔