LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے 250 ویں یوم آزادی کا کانسرٹ منسوخ کردیا پیپلز پارٹی نے گورنر سندھ کو غیر قانونی معاملات میں رکاوٹ پر ہٹایا: فاروق ستار آئی ایم ایف کا جی ایس ٹی 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا مطالبہ حجاج کی وطن واپسی کا آغاز، لاہور کے لیے پہلی پرواز 159 حجاج کو لے کر پہنچ گئی گلگت بلتستان انتخابات، پنجاب پولیس کے 5 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے پہلا ون ڈے، پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے ہرا دیا نیویارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا

کروڑوں خرچ کرنے کے باوجود ویکسین سے متعلق منفی رجحانات میں کمی نہیں آئی، مصطفیٰ کمال

Web Desk

14 April 2026

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ یونیسف کی جانب سے ویکسین آگاہی کے لیے کروڑوں ڈالر کی خطیر رقم خرچ کیے جانے کے باوجود عوامی سطح پر ویکسین سے متعلق منفی تصورات اور رجحانات میں خاطر خواہ کمی نہیں آسکی۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نام پر ملنے والے فنڈز کا درست اور مؤثر استعمال ریاست اور وزارت صحت کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر نتائج مہم کے بنیادی مقاصد کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آگاہی مہم کا اصل مقصد ویکسین سے انکار کرنے والوں کی شرح کو کم کرنا تھا، لیکن اب بھی عوام کے ذہنوں میں منفی پروپیگنڈہ موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض فنڈز خرچ کرنا کافی نہیں بلکہ شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ خطیر رقم کہاں اور کیسے استعمال ہوئی۔ وزیر صحت نے مزید کہا کہ ہیلتھ کیئر کا حقیقی مقصد لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے اور اس کے لیے عوامی اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر نے وزارت صحت کے حکام کو سخت ہدایات جاری کیں کہ ویکسین کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے ایک نئی اور جامع حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب تمام اقدامات نتائج پر مبنی ہونے چاہئیں اور کسی بھی سطح پر فنڈز کے غیر مؤثر استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ ہیلتھ کیئر سسٹم میں اصلاحات لائی جائیں تاکہ عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے مشن کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔