LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خطے کی کشیدگی سے نمٹنے کے لئے مکمل تیاری رکھیں: وزیراعظم محسن نقوی کا بوئنگ ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پی آئی اے کیلئے 16 نئے طیاروں پر پیش رفت اسحاق ڈار 2 روزہ سرکاری دورے پر شنگھائی پہنچ گئے پاکستان کا جاپانی سفیر کو ڈی مارش، مشترکہ اعلامیے پر احتجاج پنجاب حکومت خوابوں کی تعبیر تک نوجوانوں کا ساتھ دے گی: مریم نواز آبنائے ہرمز سرخ لکیر، خطے میں امریکی تنصیبات تباہ کر دیں گے: ایرانی افواج ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں: پاکستان نیب ترامیم کیس: ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے اختیار پر سوال، فیصلہ محفوظ کیا اب ایم اے پاس افراد سوئیپر بنیں گے؟ آئینی عدالت کے ریمارکس نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی سہولتی اراضی کا استعمال تبدیل کرنے پر پابندی ایران میں حکومت کی تبدیلی کیلئے زمینی فوج نہیں اتاریں گے: جے ڈی وینس پنجاب کے 5 اضلاع میں گرین الیکٹرک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح الیکشن کمیشن کا عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین، آئین میں تبدیلیوں کا فیصلہ لیبیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 50 اموات کا خدشہ ایران نے امریکا کے حملوں کے باوجود امریکی خاتون رہا کر دی، ٹرمپ کا خیرمقدم

پاکستان نے مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود صورتحال بہتر انداز میں سنبھالی: وزیر خزانہ

Web Desk

13 April 2026

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی ‘سپلائی شاک’ کے باوجود اپنی معیشت کو بہتر انداز میں سنبھالا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی تنازعات کے باوجود پاکستان نے توانائی کی فراہمی کے تسلسل کو برقرار رکھا اور توانائی کی قیمتوں کی مکمل منتقلی (Pass-through) کے ساتھ ساتھ صرف ضرورت مند طبقات کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام رائج کیا، جو معاشی استحکام کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

وزیرِ خزانہ نے ملک کے مالیاتی اشاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی سے عالمی مارکیٹ میں پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے، جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مارچ کے دوران ریکارڈ ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ صرف ترسیلاتِ زر پائیدار حل نہیں ہیں بلکہ برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ محمد اورنگزیب نے معاشی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن اور آٹومیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو بڑھایا جا سکے، جبکہ صنعتوں کے لیے مستقل سبسڈی ختم کر کے مسابقتی ماڈل اپنایا جا رہا ہے۔

توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ملک میں شمسی توانائی کی صلاحیت 8000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے اور حکومت کا ہدف قابلِ تجدید توانائی کے حصے میں مزید اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاروں صوبوں میں زرعی آمدن پر ٹیکس کی قانون سازی مکمل ہو چکی ہے اور 28 سرکاری ادارے نجکاری کے لیے پرائیویٹائزیشن کمیشن کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے آبادی میں تیزی سے اضافے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو مستقبل کے بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔