LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف

پاکستان نے مشرق وسطیٰ بحران کے باوجود صورتحال بہتر انداز میں سنبھالی: وزیر خزانہ

Web Desk

13 April 2026

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی ‘سپلائی شاک’ کے باوجود اپنی معیشت کو بہتر انداز میں سنبھالا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی تنازعات کے باوجود پاکستان نے توانائی کی فراہمی کے تسلسل کو برقرار رکھا اور توانائی کی قیمتوں کی مکمل منتقلی (Pass-through) کے ساتھ ساتھ صرف ضرورت مند طبقات کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام رائج کیا، جو معاشی استحکام کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

وزیرِ خزانہ نے ملک کے مالیاتی اشاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ یورو بانڈ کی بروقت ادائیگی سے عالمی مارکیٹ میں پاکستان پر اعتماد بحال ہوا ہے، جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مارچ کے دوران ریکارڈ ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ صرف ترسیلاتِ زر پائیدار حل نہیں ہیں بلکہ برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔ محمد اورنگزیب نے معاشی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹائزیشن اور آٹومیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو بڑھایا جا سکے، جبکہ صنعتوں کے لیے مستقل سبسڈی ختم کر کے مسابقتی ماڈل اپنایا جا رہا ہے۔

توانائی کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ملک میں شمسی توانائی کی صلاحیت 8000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے اور حکومت کا ہدف قابلِ تجدید توانائی کے حصے میں مزید اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاروں صوبوں میں زرعی آمدن پر ٹیکس کی قانون سازی مکمل ہو چکی ہے اور 28 سرکاری ادارے نجکاری کے لیے پرائیویٹائزیشن کمیشن کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے آبادی میں تیزی سے اضافے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو مستقبل کے بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانا ہے۔