LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم آزادکشمیرکی فوڈ اتھارٹی کو کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات کا حکم درجہ حرارت میں اضافے کا امکان، متعلقہ ادارے الرٹ رہیں: این ڈی ایم اے گورنر پنجاب نے سیلاب متاثرین میں 26 گھروں کی چابیاں تقسیم کردیں پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ

ماں اور بیٹے کی ایک ساتھ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر کے منفرد مثال قائم

Web Desk

14 July 2026

بھارت کے نامور تعلیمی ادارے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) مدراس کی حالیہ تقریبِ اسناد میں ایک منفرد اور دل چھو لینے والا منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب 45 سالہ ماں جیگیشا ٹیلر اور ان کے 21 سالہ بیٹے آدتیہ کپاڈیا نے ایک ہی اسٹیج پر ایک ساتھ انجینئرنگ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ دونوں نے آئی آئی ٹی مدراس کے آن لائن ڈیٹا سائنس اینڈ ایپلی کیشنز پروگرام کو کامیابی سے مکمل کیا۔ گجرات سے تعلق رکھنے والی جیگیشا ٹیلر، جو 16 برس تک الیکٹرانکس کی تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد گھریلو مصروفیات کی وجہ سے ملازمت چھوڑ چکی تھیں، نے اپنے بیٹے کی حوصلہ افزائی پر 2022 میں اس پروگرام میں داخلہ لیا تھا، جبکہ ان کے بیٹے آدتیہ نے 2021 میں داخلہ لے کر 2024 میں بی ایس کی ڈگری حاصل کی اور اب وہ ڈیٹا سائنس کے شعبے میں برسرِ روزگار ہیں۔ تقریب کے دوران ایک ہم جماعت کی تجویز پر دونوں کو ایک ساتھ اسٹیج پر بلایا گیا، جہاں انہوں نے ڈگریاں وصول کیں۔ ماں اور بیٹے کا کہنا ہے کہ اس مشترکہ تعلیمی سفر نے نہ صرف ان کے علم میں اضافہ کیا بلکہ ان کے باہمی رشتے کو بھی مزید پختہ اور مضبوط بنا دیا ہے۔