LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر آصف علی زرداری سے محسن نقوی کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال آئینِ پاکستان کو نہ ماننے والوں سے کوئی بات نہیں ہوگی: فیصل کریم پولیس پر تشدد کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر فرد جرم کی تاریخ مقرر ہراسگی قانون کے تحت کارروائی کیلئے جنسی نوعیت کا عنصر ضروری ہے: آئینی عدالت 4 اکتوبر کا لانگ مارچ فی الحال حتمی ہے، مگر حالات کے مطابق فیصلے کا حق رکھتے ہیں: سینیٹر علی ظفر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 1.2 ارب ڈالر قسط کیلئے مذاکرات کا آغاز حکومت کا یکساں گیس ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ، آئی ایم ایف سے منظوری لی جائے گی ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی کرنے کی تیاری نیتن یاہو نے اماراتی صدر کی دعوت پر ابوظہبی کا دورہ کیا: اسرائیلی وزیراعظم دفتر حافظ نعیم سے منسوب لغو بات پھیلائی جا رہی ہے: لیاقت بلوچ قطر نے ہمارے مؤقف سے امریکا کو آگاہ کر دیا، اب جواب کا انتظار ہے: عراقچی پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر پابندی عائد سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کیلئے ریڈ لائن ہے: مولانا طاہر اشرفی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز سکیورٹی فورسز کے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آپریشنز، 7 دہشت گرد جہنم واصل

ڈنمارک: باغیچے کی کھدائی کے دوران وائکنگ دور کا خزانہ دریافت

Web Desk

5 September 2026

کوپن ہیگن: ڈنمارک کے علاقے رِینِلڈ (Rebild) میں ایک مکان کے باغیچے کی کھدائی کے دوران وائکنگ عہد کا نایاب اور تاریخی لحاظ سے سب سے بڑا چاندی کا خزانہ دریافت ہوا ہے، جس میں تقریباً 700 قیمتی نوادرات شامل ہیں۔

یہ غیر معمولی دریافت اس وقت سامنے آئی جب گھر کا مالک ٹیرس کی تعمیر کے لیے زمین سے پتھر اور بجری ہٹا رہا تھا۔ محض آدھے گھنٹے کی کھدائی کے بعد مٹی کا ایک برتن برآمد ہوا، جس میں وائکنگ دور کی اشیاء محفوظ تھیں۔ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے مطابق 6.4 کلو گرام وزن کی 320 سے زائد اشیاء اپنے اصل مٹی کے برتن کے اندر صحیح سلامت حالت میں موجود تھیں جبکہ باقی نوادرات اردگرد کی مٹی سے بکھرے ہوئے ملے۔

دریافت ہونے والے خزانے میں چاندی کے نفیس کنگن، چاندی کی سلاخیں، کاٹے گئے ٹکڑے، 47 کامل سکے اور نورس دیوتا ‘تھور’ (Thor) سے منسوب ایک انتہائی چھوٹا علامتی ہتھوڑا شامل ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا اندازہ ہے کہ یہ قیمتی پراپرٹی دسویں صدی عیسوی میں وائکنگ دور کے دوران بحران یا جنگ کی صورتحال کے پیشِ نظر زمین میں چھپائی گئی تھی، جو اس دور کی معاشی تاریخ اور وائکنگ ثقافت کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔