LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی حملے، غزہ میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے نیتن یاہو کے حریف گادی آئزن کوٹ کا اسرائیل میں تبدیلی لانے کے عزم کا اعادہ اسرائیل میں سیاسی ڈیڈ لاک کا خدشہ، نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ایران سفارت کاری کے ذریعے حل کیلئے ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے، عباس عراقچی بانی پی ٹی آئی کی بہن نورین نیازی جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل وزیراعظم نے مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کا اہم اجلاس آج طلب کر لیا پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی حکومت سے مذاکرات کی حامی، طریقہ کار پر رہنما تقسیم اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ترکیہ کی امن بحالی کی کوششوں سے آگاہ کیا امریکا کی امن مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا ایرانی عہدیدار کو خط تھرپارکر: ایمبولینس میں سلنڈر دھماکا، 8 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی راولاکوٹ میں فائرنگ سے پولیس اہلکار اور شہری زخمی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج گاڑی سمیت اغوا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتیں مقرر اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام، دھاندلی کے الزامات پاک افغان سرحد پر فائرنگ سے متعلق افغان طالبان کا بیان جھوٹا، من گھڑت قرار میر رضا کیس: سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی

معاہدے کے تحت ایران کو فوری طور پر تیل فروخت کی اجازت دی جائے گی، امریکی اخبار

Web Desk

17 June 2026

امریکی اور ایرانی حکام کے مابین جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے لیے طے پانے والے تزویراتی معاہدے کے تحت ایران پر عائد معاشی پابندیاں فوری طور پر ہٹاتے ہوئے اسے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل اور ایندھن فروخت کرنے کی باضابطہ اجازت دی جائے گی۔

امریکی اخبار نے باوثوق سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کی تیل کی فروخت پر عائد سخت ترین پابندیوں میں یہ تاریخی نرمی امن معاہدے پر دونوں ممالک کے دستخط ہوتے ہی فوری طور پر نافذ العمل ہو جائے گی۔ اس بڑی رعایت میں بینکنگ چینلز کی بحالی، بین الاقوامی ٹرانسپورٹیشن اور انشورنس جیسی تمام وہ ضروری خدمات بھی شامل ہوں گی جو دنیا بھر میں تیل کی بلا تعطل فروخت کے عمل کو ممکن بنانے کے لیے تکنیکی طور پر درکار ہوتی ہیں۔

معاہدے کے فوری اثرات کے حوالے سے اخبار نے اپنی رپورٹ میں ایک غیر منافع بخش عالمی تنظیم “یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران” کی رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی خام تیل سے لدا ہوا ایک بہت بڑا سپر ٹینکر ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے کامیابی سے روانہ ہو چکا ہے۔ اس سپر ٹینکر نے سمندر میں قائم امریکی بحری ناکہ بندی کو انتہائی آسانی سے عبور کیا اور خلیجِ عمان سے باہر کی طرف روانہ ہو گیا، جبکہ اس اہم سفر کے دوران اس ٹینکر کا آفیشل لوکیشن ٹریکر بھی مکمل طور پر فعال تھا۔ مارکیٹ مبصرین کے مطابق، اپریل میں خطے کے اندر امریکی بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور انتہائی بڑا واقعہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسری جانب، ایک سینئر امریکی معاشی و سفارتی عہدیدار نے اس تزویراتی ڈیل کی باریکیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگرچہ ایران کو فوری طور پر اپنے تیل کی فروخت شروع کرنے کے لیے پابندیوں میں عارضی اور فوری ریلیف دیا جا رہا ہے، تاہم اس معاشی ریلیف کو مستقل اور طویل المدتی بنیادوں پر برقرار رکھنا مکمل طور پر ایران کی جانب سے امریکی مطالبات پر سو فیصد عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔ ان بنیادی امریکی مطالبات میں تجارتی جہاز رانی کے لیے عالمی گزرگاہ “آبنائے ہرمز” کو مستقل طور پر کھولنا اور ایران کے متنازع جوہری پروگرام سے متعلق تمام تصفیہ طلب امور پر عالمی برادری کو مطمئن کرنا شامل ہے۔