LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری، نیچرل گیس معمولی مہنگی پوتن نے روسی تیل پر مغربی پرائس کیپ مسترد، برآمدی پابندی 2027 کے آخر تک بڑھا دی روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ امریکا کا ایران حملوں میں بربادی کے بعد عرب ممالک سے اپنے اڈے منتقل کرنے کا فیصلہ این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ جاری نیویارک,یومِ عاشور کی مجلسِ عزا:ظہران ممدانی کی شرکت,امام حسینؓ کو خراجِ عقیدت ایران نے پڑوسی ممالک میں موجود اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا جاپان کا ایران، لبنان اور فلسطین کیلئے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان روس کا یوکرین کے 660 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ حزب اللہ کا لبنان سے اسرائیل کے مکمل انخلا تک ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان ایران جنگ میں پاکستان کا کردار قیامت تک یاد رکھا جائے گا: خواجہ آصف امریکا ایران معاہدے کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی: سربراہ آئی اے ای اے واٹس ایپ نے صارفین کیلئے جدید حفاظتی فیچر متعارف کرا دیا برطانوی بادشاہ چارلس بکنگھم پیلس میں کیوں نہیں رہیں گے؟

انسٹاگرام اکاؤنٹس خطرے میں، میٹا کا اے آئی چیٹ بوٹ ہیکرز کا معاون بن گیا

Web Desk

5 June 2026

کیلیفورنیا: سوشل میڈیا کی دنیا سے ایک انتہائی تشویشناک اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنی ‘میٹا’ کی جانب سے فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے لاک اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے متعارف کرایا گیا اے آئی (AI) سپورٹ چیٹ بوٹ خود ایک بڑے سیکیورٹی خدشے کی وجہ بن گیا ہے، جسے ہیکرز نے اکاؤنٹس ہائی جیک کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

سیکیورٹی محققین کے مطابق، میٹا نے دسمبر 2025 میں یہ اے آئی اسسٹنٹ اس مخلصانہ مقصد کے لیے لانچ کیا تھا کہ صارفین کے اکاؤنٹ ریکوری کے عمل کو تیز اور آسان بنایا جا سکے۔ تاہم، اس ٹول نے غیر متوقع طور پر ہیکرز کے لیے چور دروازے کھول دیے ہیں، اور یہ سسٹم اب انسٹاگرام اکاؤنٹس پر غیر قانونی کنٹرول حاصل کرنے کا انتہائی آسان ذریعہ بن چکا ہے۔سیکیورٹی ماہرین کی جانب سے مینوئل کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، وہ کافی خوفناک ہیںیہ سسٹم بعض صورتوں میں سیکیورٹی کی مضبوط ترین تہہ یعنی ‘ٹو فیکٹر (دو مرحلہ) تصدیق’ کے فعال ہونے کے باوجود بھی اکاؤنٹ ہیک کرنے کی اجازت دے دیتا ہے۔ ہیکرز اس اے آئی چیٹ بوٹ کو مخصوص ہدایات (Prompts) دیتے ہیں کہ ہدف بنائے گئے اکاؤنٹ سے منسلک اصل ای میل ایڈریس کو تبدیل کر دیا جائے۔ ای میل تبدیل ہوتے ہی ہیکرز پاس ورڈ ری سیٹ کا لنک حاصل کر کے سیکنڈوں میں اکاؤنٹ تک مکمل رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین نے اس حساس معاملے کا انکشاف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابق ٹوئٹر) پر کیا ہے، جبکہ اس ہیکنگ کے طریقہ کار کی اسکرین شاٹس اور ویڈیوز میسجنگ ایپ ‘ٹیلیگرام’ پر بھی تیزی سے گردش کر رہی ہیں۔رپورٹس کے مطابق، ٹیلیگرام کے مختلف گروپس میں مارچ سے ہی اس تکنیکی خامی پر بحث جاری تھی، لیکن اب اس کے عملی استعمال کے ٹھوس شواہد سامنے آنے پر معاملہ انتہائی سنگین ہو گیا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، ہیکرز نے یہ کمزوری دریافت کی کہ میٹا کا اے آئی چیٹ بوٹ اکاؤنٹ ہولڈر کی جغرافیائی لوکیشن (Location) پر انحصار کرتے ہوئے سپورٹ سسٹم کو ایکٹیویٹ کرتا ہے۔ ہیکرز نے اسی مینوئل کا فائدہ اٹھایا اور وی پی این (VPN) کے ذریعے اپنی لوکیشن کو متاثرہ صارف کی لوکیشن سے میچ کر کے میٹا کے پورے سسٹم کو آسانی سے گمراہ کر دیا۔اگرچہ ابھی تک میٹا کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس سیکیورٹی خامی کی وجہ سے اب تک کل کتنے صارفین متاثر ہوئے ہیں، تاہم رپورٹس کے مطابق کئی ہائی پروفائل اور ویریفائیڈ اکاؤنٹس اس حملے کی زد میں آ چکے ہیں۔ ان ہائی پروفائل اکاؤنٹس میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کا وائٹ ہاؤس دور کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میٹا کے ترجمان اور عہدیدار اینڈی اسٹون نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی کو اس سیکیورٹی خامی کا علم ہو چکا ہے اور وہ اس اہم ترین مسئلے کو فوری طور پر درست (Fix) کرنے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ اب تک متاثر ہونے والے اکاؤنٹس کی تفصیلی جانچ پڑتال بھی شروع کر دی گئی ہے۔