28 ویں ترمیم آناً فاناً نہیں، مشاورت سے آئے گی: اعظم نذیر تارڑ
Web Desk
4 July 2026
وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ عدالتی نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے پہلی بار ہائی کورٹ کے ججز کی کارکردگی جانچنے کا آئینی نظام لایا جا رہا ہے، جس کے تحت ججز کی تعیناتی کے لیے باقاعدہ انٹرویو لیے جائیں گے اور خراب کارکردگی پر انہیں برطرف کرنے کا ریفرنس جوڈیشل کمیشن کو بھیجا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں جب بھی 28 ویں آئینی ترمیم لائی جائے گی، وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ائے گی، آناً فاناً نہیں۔
پنجاب بار کونسل کے زیرِ اہتمام ‘لائرز اکیڈمی’ اور واٹر فلٹریشن پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے بار ووکیشنل کورس کے لیے 20 ملین (دو کروڑ) روپے کی گرانٹ کا اعلان کیا۔ تقریب میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین پیر مسعود چشتی، معروف وکیل رہنما احسن بھون سمیت وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اعظم نذیر تارڑ نے ججز کی تعیناتی کے عمل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب سول جج اور ایڈیشنل سیشن جج کے لیے باقاعدہ امتحان لیا جاتا ہے، تو ہائی کورٹ کے ججز کے لیے انٹرویو کیوں نہ ہوں؟ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی کے لیے نامزد ناموں کے انٹرویوز کے لیے ایک 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ “ججز ایولیشن کمیٹی” ہر سال کے آخر میں ججز کی کارکردگی اور کیسز کے فیصلوں کا جائزہ لے گی۔ وزیرِ قانون نے ریمارکس دیے کہ ایک ہی احاطے میں دو مختلف عدالتیں الگ فیصلے اور الگ تاریخیں دے رہی ہوتی ہیں، جبکہ سب کو تنخواہ اور مراعات ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ایک جیسی ملتی ہیں، تو کام کا معیار بھی ایک جیسا ہونا چاہیے۔ جس جج کی کارکردگی سے جوڈیشل کمیشن مطمئن نہیں ہوگا، اس کے خلاف ریفرنس بھیجا جائے گا اور کمیٹی غیر تسلی بخش کارکردگی پر برطرفی کی سفارش بھی کر سکے گی۔
لیگل ایجوکیشن کے گرتے ہوئے معیار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاء کالجز میں داخلوں کی بھرمار ہو چکی ہے اور ہم نے اس گھر کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا، تاہم اب تمام بار ایسوسی ایشنز کو ڈگریاں چیک کرنے اور داخلوں کا سخت طریقہ کار طے کرنے کا کہہ دیا گیا ہے۔ وکلا کی سہولت کے لیے نادرا کے ساتھ بائیو میٹرک سسٹم کے معاملات بھی طے کر لیے گئے ہیں۔
وکلا پر انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات کے اندراج پر انہوں نے بتایا کہ پنجاب حکومت سے بات ہو چکی ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ فرد (زمین کا کاغذ) تاخیر سے ملنے پر قانون ہاتھ میں لینا یا توڑ پھوڑ کرنا درست عمل نہیں ہے، ایسے معاملات بار کونسل کے ذریعے حل کیے جائیں۔ انہوں نے پنجاب میں بار کونسلز کو 135 کروڑ روپے کی گرانٹ دینے کا ذکر کیا اور وکلا و ان کی فیملیز کے لیے دل، گردے اور کینسر کے مفت علاج کے لیے ہیلتھ انشورنس پالیسی لانے کا بھی اعلان کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انڈیپنڈنٹ گروپ کے سربراہ احسن بھون نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد لائرز کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور آئین و قانون کی بالادستی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ عدالتوں کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے، آئین بنانا نہیں۔ 28 ویں ترمیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم کا ایک طریقہ کار موجود ہے، جب حکومت مسودہ شیئر کرے گی تو بار کونسل اس کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بار کے چھت کے نیچے پی پی پی، پی ٹی آئی اور ن لیگ سب موجود ہیں، اور جو بھی سیاسی مفادات کے لیے وکلا برادری کو استعمال کرنے کی کوشش کرے گا، اسے روکا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل پیر مسعود چشتی نے نئے آنے والے وکلا کو خوش آمدید کہتے ہوئے لائرز اکیڈمی کے قیام کو برادری کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا۔
متعلقہ عنوانات
صدر مملکت سے سعودی سفیر کی الوداعی ملاقات، عوامی محبت و تعاون پر اظہار تشکر
24 August 2026
اسحاق ڈار کا ازبک وزیر خارجہ سے رابطہ، باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو
24 August 2026
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے
24 August 2026
آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر امیدواروں کی دستبرداری مکمل، کل پولنگ ہوگی
24 August 2026
حکمران آئین پر عمل نہیں کرتے تو ان کی کوتاہی ہے: مولانا فضل الرحمان
24 August 2026
شام کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا تاریخی دورہ، دوطرفہ تعلقات میں نئے باب کا آغاز
24 August 2026
جماعت اسلامی کسی گرینڈ اپوزیشن اتحاد کا حصہ بننے نہیں جا رہی: حافظ نعیم الرحمان
24 August 2026
شہباز-نواز شریف ملاقات: بانی پی ٹی آئی کی پمز منتقلی اور سیاسی و قانونی حکمتِ عملی پر مشاورت
24 August 2026