کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
Web Desk
3 June 2026
واشنگٹن: جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی اور خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنے کا رجحان ایک عام معمول بنتا جا رہا ہے، تاہم ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت انسانی دماغی صحت کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکہ میں ہونے والی مختلف جدید طبی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں شدید ذہنی مسائل جیسے کہ ڈپریشن (Depression)، انزائٹی (Anxiety) اور تنہائی کے احساس کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
ایک کڑی طبی تحقیق کے دوران 400 سے زائد افراد کی نیند کے روزمرہ اوقات اور ان کی ذہنی کیفیت کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا، جس کے بعد درج ذیل اہم حقائق سامنے آئے:
شدید بے چینی اور تنہائی: رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ ذہنی بے چینی اور اضطراب کا شکار ہوتے ہیں، بلکہ وہ سماجی طور پر بھی دوسرے لوگوں سے کٹ جاتے ہیں، جس کے باعث ان میں اکیلے پن اور تنہائی کا احساس خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔
-
منفی خیالات کا حملہ: ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ رات کی خاموشی اور تنہائی میں انسانی دماغ پر منفی خیالات زیادہ تیزی سے حاوی ہوتے ہیں، جو براہِ راست ذہنی دباؤ (اسٹریس) میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
مختلف سائنسی رپورٹس سے یہ تشویشناک بات بھی سامنے آئی ہے کہ دیر سے سونے والے افراد میں عام لوگوں کے مقابلے میں ڈپریشن کا شکار ہونے کا امکان 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔
طبی ماہرین نے دیر سے سونے والوں میں ذہنی مسائل کی چند بنیادی وجوہات بھی بیان کی ہیں:
-
نیند کا ناقص اور غیر معیاری ہونا۔
-
دیر تک جاگنے کے باعث رات کے وقت غیر صحت بخش خوراک (جنک فوڈ وغیرہ) کا استعمال۔
-
رات کے اندھیرے میں اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ یا دیگر ڈیجیٹل اسکرینز کا بے تحاشا استعمال۔
ماہرین کے مطابق، انسانی جسم کے اندر ایک قدرتی نظام موجود ہے جسے ‘سرکیڈین ردھم’ (Circadian Rhythm) یعنی حیاتیاتی گھڑی کہا جاتا ہے۔ یہ نظام قدرتی طور پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ انسان دن کے اوقات میں فعال اور سرگرم رہے جبکہ رات کے وقت آرام کرے۔ اس قدرتی نظام میں کسی بھی قسم کا خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔
تحقیق نے اس عام مغالطے کو بھی دور کیا ہے کہ اگر کوئی شخص صبح دیر تک سو کر اپنی نیند کا دورانیہ (گھنٹے) پورا کر لیتا ہے تو وہ محفوظ ہے۔ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ چاہے نیند کا دورانیہ مکمل ہی کیوں نہ ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے اتنا ہی نقصان دہ ہے۔ اس لیے بہتر دماغی و نفسیاتی صحت کے لیے ‘جلد سونے اور جلد جاگنے’ کی قدیم روایتی عادت کو اپنانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
ماہرین نے ذہنی صحت کو برقرار رکھنے اور بہتر بنانے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر کا مشورہ دیا ہے:
-
رات کے وقت سونے سے قبل اسمارٹ فون اور دیگر اسکرینز کا استعمال ہر ممکن حد تک کم کر دیا جائے۔
-
روزانہ سونے اور جاگنے کا ایک باقاعدہ اور مستقل وقت مقرر کیا جائے۔
-
دن کے اوقات میں لوگوں سے ملنے جلنے اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے تاکہ اکیلے پن سے بچا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
وزیراعظم کی 3 ماہ میں پمز ہسپتال میں فائر سیفٹی سمیت نظام بہتر کرنے کی ہدایت
16 September 2026
ملک بھر میں 20 ستمبر کو ایم ڈی کیٹ کا انعقاد: 1 لاکھ 38 ہزار سے زائد طلبہ امتحان دیں گے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
16 September 2026
حالتِ سکون میں پاؤں کی ہڈیوں میں درد دل کی خطرناک بیماری کی علامت، ماہرین
16 September 2026
سانحہ پمز؛ 14 نومولود کیوں نہیں بچائے جا سکے؟ انکوائری رپورٹ میں انکشافات
15 September 2026
خواتین میں مصنوعی پلکوں کا استعمال، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
15 September 2026
وزن کم کرنے والی ادویات کا خودکشی کے خیالات سے تعلق کا انکشاف
15 September 2026
خیبرپختونخوا: چکن گونیا کے کیسز میں اضافہ، نوشہرہ کے متعدد گاؤں متاثر
15 September 2026
ایڈز کے خاتمے کیلئے علاج کے ساتھ مؤثر آگاہی پر توجہ دینا ہو گی: مصطفیٰ کمال
14 September 2026