LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

ٹک ٹاکر شیروں کے پنجرے میں کود گیا؟ حیران کن ویڈیو وائرل

Web Desk

30 August 2026

لاہور: لاہور چڑیا گھر میں ایک ٹک ٹاکر کی جانب سے مبینہ طور پر شیروں کے انکلوژر میں داخل ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد چڑیا گھر انتظامیہ نے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ٹک ٹاکر شیروں کی حفاظت کے لیے لگائے گئے بیرونی جنگلے کو پھلانگ کر اندر داخل ہوتا ہے اور چند سیکنڈز بعد واپس باہر آ جاتا ہے۔ اس خطرناک منظر پر شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید تشویش اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے چڑیا گھر کے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب لاہور چڑیا گھر انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شیروں کے بیرونی جنگلے اور ان کے اصل انکلوژر (خندق) کے درمیان کافی فاصلہ ہے جبکہ حفاظتی حدود پر ریزر وائرز کی متعدد تہیں بھی نصب کی گئی ہیں، جنہیں عبور کر کے کسی شخص کا شیروں کے بالکل قریب پہنچنا عملاً ناممکن ہے۔ انتظامی حکام کے مطابق ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ویڈیو میں ویژول ایفیکٹس یا ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا استعمال کیا گیا ہے، تاہم ویڈیو کی اصلیت اور حقیقت جاننے کے لیے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی رپورٹ سامنے آنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔