LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اسلام آباد ایم او یو پر عمل کرے تو ایران بھی تیار ہے: ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو طبی سہولیات، اخبارات اور کتابیں فراہم کرنے کی ہدایت اسلام آباد ہائیکورٹ: جیل حکام کو بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی، اہلخانہ سے ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل قیدِ تنہائی کیخلاف درخواستیں قابلِ سماعت قرار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ یورپی یونین واشنگٹن کے غیر قانونی اقدامات میں شریک بن چکی ہے: اسماعیل بقائی ایران تیل و گیس کی ترسیل میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے: جے ڈی وینس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی آئل ٹینکر کو روک لیا گیا: ایرانی میڈیا وزیراعظم شہباز شریف کی شنگھائی تعاون تنظیم سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت صدر مملکت آصف علی زرداری ویانا سے لندن پہنچ گئے امریکی فوج کے سیکرٹری ڈین ڈرسکول مستعفی ایران کی حملوں کیلئے سرزمین دینے والے ممالک کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی ایران کا امریکا کے کسی بھی حملے کا جواب کئی گنا زیادہ شدت سے دینے کا اعلان ٹرمپ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے: ابوفضل شکارچی

ٹک ٹاکر شیروں کے پنجرے میں کود گیا؟ حیران کن ویڈیو وائرل

Web Desk

30 August 2026

لاہور: لاہور چڑیا گھر میں ایک ٹک ٹاکر کی جانب سے مبینہ طور پر شیروں کے انکلوژر میں داخل ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد چڑیا گھر انتظامیہ نے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ٹک ٹاکر شیروں کی حفاظت کے لیے لگائے گئے بیرونی جنگلے کو پھلانگ کر اندر داخل ہوتا ہے اور چند سیکنڈز بعد واپس باہر آ جاتا ہے۔ اس خطرناک منظر پر شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید تشویش اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے چڑیا گھر کے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب لاہور چڑیا گھر انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شیروں کے بیرونی جنگلے اور ان کے اصل انکلوژر (خندق) کے درمیان کافی فاصلہ ہے جبکہ حفاظتی حدود پر ریزر وائرز کی متعدد تہیں بھی نصب کی گئی ہیں، جنہیں عبور کر کے کسی شخص کا شیروں کے بالکل قریب پہنچنا عملاً ناممکن ہے۔ انتظامی حکام کے مطابق ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ویڈیو میں ویژول ایفیکٹس یا ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا استعمال کیا گیا ہے، تاہم ویڈیو کی اصلیت اور حقیقت جاننے کے لیے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی رپورٹ سامنے آنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔