LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

سی سیکشنز کی فوٹیج بنانے کا معاملہ، 4 ڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ معطل

Web Desk

28 March 2026

لاہور: لاہور کے تاریخی لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں انسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں آپریشن تھیٹر میں دورانِ سرجری دو سی سیکشنز (C-Sections) کی ویڈیو بنائی گئی اور اسے ‘مقابلہ’ قرار دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ڈاکٹروں کو یہ بحث کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ پہلے آپریشن کون مکمل کرتا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے اس غیر پیشہ ورانہ رویے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

صوبائی وزیرِ صحت خواجہ سلمان رفیق نے اس عمل کو طبی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی اور مریض کے وقار کی توہین قرار دیا ہے۔ محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے فوری طور پر ویڈیو میں موجود چار لیڈی ڈاکٹرز، جن میں ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر اور ڈاکٹر عائشہ افضل شامل ہیں، کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ معطل کر دی ہے۔

سیکرٹری صحت عظمت محمود کے مطابق، ہسپتال کی ایم ایس ڈاکٹر فرح انعام اور گائنی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے تحریری جواب طلب کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ وقت پر تسلی بخش جواب نہ ملنے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی و محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس واقعے نے ہسپتالوں میں مریضوں کی رازداری اور ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ مہارت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔