LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا ایران امن معاہدے کی توقع؛ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بڑی کمی امریکی صدر کا سعودی عرب، قطر اور پاکستان سمیت مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ 2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم

کراچی میں کھلے مین ہولز موت کا جال بن گئے، 2025 میں بچوں سمیت 24 شہری جاں بحق

Web Desk

29 December 2025

کراچی میں کھلے مین ہولز اور غیر محفوظ نالے شہریوں کے لیے ایک جان لیوا مسئلہ بن چکے ہیں۔ سال 2025 کے دوران کھلے مین ہولز اور نالوں میں گر کر بچوں سمیت 24 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود یہ مسئلہ تاحال انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہے۔

ملک کے معاشی حب کراچی میں زیرِ زمین سیوریج کا نظام بظاہر وسیع دکھائی دیتا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ عوام کے لیے موت کے کنویں بنے یہ مین ہولز شہر بھر میں کھلے پڑے ہیں، جو ہر وقت کسی نئے سانحے کا سبب بن سکتے ہیں۔

واٹر کارپوریشن کے مطابق شہر میں 2 لاکھ سے زائد مین ہولز موجود ہیں، تاہم مختلف علاقوں میں ہزاروں مین ہولز بغیر ڈھکن کے کھلے ہیں۔ انتظامی غفلت کے باعث شہریوں کی جانیں مسلسل خطرے میں ہیں۔

شاہ فیصل کالونی کا تین سالہ ابراہیم بھی ان بدنصیبوں میں شامل ہے، جو 30 نومبر کو نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔ لواحقین کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ واضح طور پر انتظامی نااہلی کا ثبوت ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق رواں سال بچوں سمیت 24 افراد کھلے مین ہولز کا شکار ہو چکے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر شہری اپنی مدد آپ کے تحت ٹوٹی شاخوں، اینٹوں اور دیگر رکاوٹیں رکھ کر مین ہولز کی نشاندہی کر رہے ہیں تاکہ مزید قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

واٹر کارپوریشن کا کہنا ہے کہ شہری ہیلپ لائن 1334 پر کال کرکے یا متعلقہ یونین کونسل سے مین ہول کور حاصل کر سکتے ہیں۔ ہیلپ لائن کے قیام سے اب تک 4417 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 3333 شکایات حل کی جا چکی ہیں۔

دوسری جانب بڑھتے ہوئے حادثات نے شہریوں میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے، جبکہ ماہرینِ شہری امور اس سنگین مسئلے کی بنیادی وجہ پیچیدہ بلدیاتی نظام کو قرار دے رہے ہیں۔