LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری روز ماسکو پر بڑا ڈرون حملہ کوئی ریاست دوسری ریاست کیلئے خطرہ نہیں بن سکتی: قطری وزیراعظم شمالی کوریا کا تین گھنٹوں میں 2 بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نئے صوبوں، صدارتی اور بلدیاتی نظام میں زیادہ دیر نہیں: چودھری جعفر اقبال اٹھارہویں ترمیم کے بعد چاروں صوبے 4 آزاد ریاستیں بن گئیں: مصطفیٰ کمال الخلیل میں اسرائیلی آباد کاروں کا فلسطینیوں پر حملہ، گاڑی نذر آتش جاسم البدیوی کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کی جماعت اسلامی کے مارچ کی حمایت زیلنسکی اور ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطہ، نیویارک میں ملاقات پر اتفاق آبنائے ہرمز، باب المندب بند ہونے سے تیل مہنگا ہوا، مہنگائی سے پوری دنیا پریشان ہے: رانا ثناء اللہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں بڑھیں، عوام کی تکلیف کا احساس ہے: علی پرویز ملک 18ویں ترمیم کے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں :خالد مقبول صدیقی سکیورٹی پہلے، ملک محفوظ ہوگا تو ترقی بھی ہو گی: سپیکر پنجاب اسمبلی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ میں بریک تھرو کا امکان پی ٹی آئی ایم پی اے کی فائرنگ سے 2 لیویز اہلکار زخمی، مقدمہ درج: ذرائع

کراچی میں کھلے مین ہولز موت کا جال بن گئے، 2025 میں بچوں سمیت 24 شہری جاں بحق

Web Desk

29 December 2025

کراچی میں کھلے مین ہولز اور غیر محفوظ نالے شہریوں کے لیے ایک جان لیوا مسئلہ بن چکے ہیں۔ سال 2025 کے دوران کھلے مین ہولز اور نالوں میں گر کر بچوں سمیت 24 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود یہ مسئلہ تاحال انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہے۔

ملک کے معاشی حب کراچی میں زیرِ زمین سیوریج کا نظام بظاہر وسیع دکھائی دیتا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ عوام کے لیے موت کے کنویں بنے یہ مین ہولز شہر بھر میں کھلے پڑے ہیں، جو ہر وقت کسی نئے سانحے کا سبب بن سکتے ہیں۔

واٹر کارپوریشن کے مطابق شہر میں 2 لاکھ سے زائد مین ہولز موجود ہیں، تاہم مختلف علاقوں میں ہزاروں مین ہولز بغیر ڈھکن کے کھلے ہیں۔ انتظامی غفلت کے باعث شہریوں کی جانیں مسلسل خطرے میں ہیں۔

شاہ فیصل کالونی کا تین سالہ ابراہیم بھی ان بدنصیبوں میں شامل ہے، جو 30 نومبر کو نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔ لواحقین کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ واضح طور پر انتظامی نااہلی کا ثبوت ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق رواں سال بچوں سمیت 24 افراد کھلے مین ہولز کا شکار ہو چکے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر شہری اپنی مدد آپ کے تحت ٹوٹی شاخوں، اینٹوں اور دیگر رکاوٹیں رکھ کر مین ہولز کی نشاندہی کر رہے ہیں تاکہ مزید قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

واٹر کارپوریشن کا کہنا ہے کہ شہری ہیلپ لائن 1334 پر کال کرکے یا متعلقہ یونین کونسل سے مین ہول کور حاصل کر سکتے ہیں۔ ہیلپ لائن کے قیام سے اب تک 4417 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 3333 شکایات حل کی جا چکی ہیں۔

دوسری جانب بڑھتے ہوئے حادثات نے شہریوں میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے، جبکہ ماہرینِ شہری امور اس سنگین مسئلے کی بنیادی وجہ پیچیدہ بلدیاتی نظام کو قرار دے رہے ہیں۔