LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
علیم خان صرف بیان نہ دیں، استعفیٰ دے کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں: سوشل میڈیا صارفین کا شدید ردِعمل امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں لگا دیں سینٹ کام نے ایران کے امریکی طیارے تباہ کرنے کے دعوے مسترد کر دیئے ہمارے مخالفین آپس میں کسی بات پر متفق نہیں، ہماری سیاست صرف ترقی ہے: احسن اقبال بھارت کی موجودہ قیادت نفرت کی سیاست سے اپنے ہی ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے: سفیر فیصل نیاز ترمذی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری خضدار میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 4 دہشت گرد جہنم واصل بھارت فلسطین کیخلاف اسرائیل کو اسلحہ اور دفاعی پرزے فراہم کرتا رہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل ترک وزیر خارجہ کی حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ سے ملاقات، امن مذاکرات پر زور اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا رابطہ، علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کا ریٹائرڈ ملازمین کے حق میں بڑا فیصلہ وزیراعظم کی بجلی چوری کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات کی ہدایت کشمیر میں انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہئے، بلٹ سے نہیں: بلاول بھٹو نئے انتظامی یونٹس ہی مسائل کا حل، معاملہ عوام کے پاس لے جانا ہوگا: محسن نقوی ایران کا اردن میں امریکی ایئربیس پر حملہ، تین ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ

کراچی میں کھلے مین ہولز موت کا جال بن گئے، 2025 میں بچوں سمیت 24 شہری جاں بحق

Web Desk

29 December 2025

کراچی میں کھلے مین ہولز اور غیر محفوظ نالے شہریوں کے لیے ایک جان لیوا مسئلہ بن چکے ہیں۔ سال 2025 کے دوران کھلے مین ہولز اور نالوں میں گر کر بچوں سمیت 24 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود یہ مسئلہ تاحال انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہے۔

ملک کے معاشی حب کراچی میں زیرِ زمین سیوریج کا نظام بظاہر وسیع دکھائی دیتا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ عوام کے لیے موت کے کنویں بنے یہ مین ہولز شہر بھر میں کھلے پڑے ہیں، جو ہر وقت کسی نئے سانحے کا سبب بن سکتے ہیں۔

واٹر کارپوریشن کے مطابق شہر میں 2 لاکھ سے زائد مین ہولز موجود ہیں، تاہم مختلف علاقوں میں ہزاروں مین ہولز بغیر ڈھکن کے کھلے ہیں۔ انتظامی غفلت کے باعث شہریوں کی جانیں مسلسل خطرے میں ہیں۔

شاہ فیصل کالونی کا تین سالہ ابراہیم بھی ان بدنصیبوں میں شامل ہے، جو 30 نومبر کو نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔ لواحقین کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ واضح طور پر انتظامی نااہلی کا ثبوت ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق رواں سال بچوں سمیت 24 افراد کھلے مین ہولز کا شکار ہو چکے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر شہری اپنی مدد آپ کے تحت ٹوٹی شاخوں، اینٹوں اور دیگر رکاوٹیں رکھ کر مین ہولز کی نشاندہی کر رہے ہیں تاکہ مزید قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

واٹر کارپوریشن کا کہنا ہے کہ شہری ہیلپ لائن 1334 پر کال کرکے یا متعلقہ یونین کونسل سے مین ہول کور حاصل کر سکتے ہیں۔ ہیلپ لائن کے قیام سے اب تک 4417 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 3333 شکایات حل کی جا چکی ہیں۔

دوسری جانب بڑھتے ہوئے حادثات نے شہریوں میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے، جبکہ ماہرینِ شہری امور اس سنگین مسئلے کی بنیادی وجہ پیچیدہ بلدیاتی نظام کو قرار دے رہے ہیں۔