LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

ایرانی سپریم لیڈر نے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزا معاف کر دی

Web Desk

6 June 2026

تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بڑا اور اہم ترین فیصلہ کرتے ہوئے ملک کی مختلف جیلوں میں قید 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزاؤں میں معافی اور تخفیف کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد قیدیوں کی بڑی تعداد میں رہائی شروع ہو گئی ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق، سپریم لیڈر کی جانب سے عام معافی کے اس شاہی فرمان کے بعد بیشتر قیدیوں کو فوری طور پر جیلوں سے رہا کر دیا گیا ہے، جس سے ان کے گھروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ قیدیوں کی سزاؤں میں معافی اور نرمی کا یہ فیصلہ روایتی مینوئل کے تحت کیا گیا ہے: قیدیوں کی سزا میں معافی کی یہ باضابطہ اور قانونی درخواست ایرانی عدلیہ کے سربراہ (چیف جسٹس) غلام حسین محسنی کی جانب سے سپریم لیڈر کو پیش کی گئی تھی۔سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عدلیہ کی جانب سے فراہم کردہ فہرست اور سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد اس پر دستخط کیے۔

عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، اس عام معافی کے دائرہ اختیار کو مخصوص اور محدود رکھا گیا ہے۔ جاری کردہ اعلامیے میں واضع کیا گیا ہے کہ جن قیدیوں کی سزائیں معاف کی گئی ہیں، ان میں غیر ممالک کے لیے جاسوسی کے الزامات میں قید افراد اور قومی سلامتی (National Security) کی سنگین خلاف ورزی کرنے والے خطرناک ملزمان کسی طور پر شامل نہیں ہیں۔

ایسے قیدیوں کو اس ریلیف سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا ہے اور وہ اپنی مقررہ سزائیں جیلوں میں ہی کاٹیں گے۔ تفریق کا یہ مینوئل ایران کے روایتی عدالتی قوانین کے عین مطابق ہے جہاں ریاست کے خلاف جرائم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔