LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے صومالی وزیر دفاع کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق واشک اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز، 12 دہشتگرد جہنم واصل شفاف انتخابات تک بڑی آئینی تبدیلی قبول نہیں: سلمان اکرم راجہ سفارتی وفد کا این ڈی ایم اے کا دورہ، جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کو سراہا فیک نیوز کی روک تھام ناگزیر، صحافت ذمہ دارانہ پیشہ ہے: عظمیٰ بخاری وزیراعظم اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ سہ روزہ دورہ پر سعودی عرب روانہ PMDC کا ایم ڈی کیٹ امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی کا اعلان، ٹیسٹ اب 20 ستمبر کو ہو گا راولپنڈی میں رواں سال ڈینگی کے 6 کیسز سامنے آ گئے، 67 ہزار سے زائد لاروا تلف، ہیلتھ اتھارٹی کی رپورٹ جاری ہم افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، افغان طالبان کو پاکستان یا دہشت گردوں میں سے ایک کو چننا ہوگا: دفترِ خارجہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کے تاثر کی تردید,اڈیالہ جیل حکام کی رپورٹ پیش پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز نے میٹرک 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا حافظ نعیم الرحمن کی 7 اگست کو ملک گیر احتجاج کی اپیل براڈ پیک حادثہ: جاں بحق ہونے والے پانچ غیرملکی کوہ پیماؤں کی میتیں سکردو پہنچا دی گئیں پاکستان جلد یوریشین اکنامک یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرے گا، فیصل نیاز ترمذی ٹرمپ نے امریکی اسلحے کے ذخائر میں کمی کی خبروں کو مسترد کر دیا

عمان سے ممکنہ بحری معاہدہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کی ضمانت نہیں: ایران

Web Desk

5 August 2026

ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے انتظامی امور سے متعلق کوئی معاہدہ طے بھی پا جاتا ہے، تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوگا کہ یہ اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ فوری طور پر تجارتی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھول دی جائے گی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں مستقبل کی بحری آمدورفت اور انتظامی طریقہ کار سے متعلق تمام تر مذاکرات صرف تہران اور مسقط کے درمیان جاری ہیں، اور ان میں امریکا کا کوئی براہ راست تعلق یا کردار نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان ممکنہ سمجھوتہ صرف مشترکہ بحری راہداری اور انتظامی طریقہ کار تک محدود ہے، جبکہ اس سٹریٹیجک گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنے یا بند رکھنے کا فیصلہ بالکل ایک الگ معاملہ ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ اگر دونوں ممالک کسی نئے بحری راستے کے قیام پر متفق بھی ہو جائیں، تب بھی آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا اپنی مبینہ خلاف ورزیاں، فوجی مداخلت اور پابندیاں ختم نہیں کرتا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور مسقط کے درمیان مشترکہ بحری راہداری کے قیام پر بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، تاہم عمانی حکومت اور امریکی حکام کی جانب سے اس پیش رفت پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے یہ انتہائی اہم ترین گزرگاہ ہے، اس لیے دنیا بھر کی توانائی منڈیاں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔