LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری، نیچرل گیس معمولی مہنگی پوتن نے روسی تیل پر مغربی پرائس کیپ مسترد، برآمدی پابندی 2027 کے آخر تک بڑھا دی روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ امریکا کا ایران حملوں میں بربادی کے بعد عرب ممالک سے اپنے اڈے منتقل کرنے کا فیصلہ این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ جاری نیویارک,یومِ عاشور کی مجلسِ عزا:ظہران ممدانی کی شرکت,امام حسینؓ کو خراجِ عقیدت ایران نے پڑوسی ممالک میں موجود اسرائیلی فوجی طیاروں کیلئے سخت انتباہ جاری کردیا جاپان کا ایران، لبنان اور فلسطین کیلئے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان روس کا یوکرین کے 660 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ حزب اللہ کا لبنان سے اسرائیل کے مکمل انخلا تک ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان ایران جنگ میں پاکستان کا کردار قیامت تک یاد رکھا جائے گا: خواجہ آصف امریکا ایران معاہدے کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی: سربراہ آئی اے ای اے واٹس ایپ نے صارفین کیلئے جدید حفاظتی فیچر متعارف کرا دیا برطانوی بادشاہ چارلس بکنگھم پیلس میں کیوں نہیں رہیں گے؟

پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران

Web Desk

18 May 2026

ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید ترین کشیدگی کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے پسِ پردہ سفارت کاری میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کا عمل برادر ملک پاکستان کی ثالثی (Pakistan’s Mediation) کے ذریعے کامیابی سے جاری ہے اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے کی تجاویز پر اپنے اپنے ردعمل اور آراء کا تبادلہ بھی کر دیا ہے۔

 ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران کی اولین توجہ خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات مکمل طور پر براہِ راست (Direct) نہیں ہیں، بلکہ ثالثی چینل کے ذریعے آگے بڑھ رہے ہیں، جس میں پاکستان ایک کلیدی اور تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حالیہ پیش رفت اور خط و کتابت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان بنیادی نظریاتی و سیاسی اختلافات بدستور برقرار ہیں، تاہم اچھی بات یہ ہے کہ رابطے کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا؛ ایران نے اپنی تجاویز پیش کر دی ہیں اور امریکا کی جانب سے بھی جواب موصول ہوا ہے، جن پر مزید غور جاری ہے۔

 امریکا کی جانب سے حال ہی میں عائد کردہ 5 سخت شرائط، بالخصوص جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور 400 کلوگرام افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے کے مطالبے پر ایران نے سخت اور دوٹوک مؤقف اپنایا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ:

 ایران یورینیم افزودگی کے اپنے مسلمہ حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ۔ معاہدہ عدم پھیلاؤ (NPT) کے تحت ایران کے اس حق کو تسلیم کیا جا چکا ہے اور یہ موضوع ناقابلِ مذاکرات ہے۔ امریکا کی جانب سے منجمد اثاثوں میں صرف 25 فیصد نرمی کی شرط پر انہوں نے کہا کہ اثاثوں پر سے پابندیاں ختم کرنا امریکا کی شرط نہیں بلکہ ایران کا بنیادی شرعی و قانونی مطالبہ ہے۔ ترجمان نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب بین الاقوامی سطح پر قابلِ اعتبار نہیں رہا۔ امریکی موجودگی نے خطے کے امن کو بہتر بنانے کے بجائے اسے شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔اسماعیل بقائی نے خطے کے ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات (UAE) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو یو اے ای سمیت خطے کے کسی بھی ملک سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، تاہم خلیجی ممالک کو حالیہ مہینوں کے واقعات سے سبق سیکھنا چاہیے کہ بیرونی طاقتیں ان کی محافظ نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی اور عمانی تکنیکی ٹیموں نے گزشتہ ہفتے عمان میں ملاقات کی ہے، جہاں ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) میں محفوظ جہاز رانی (Safe Navigation) کے طریقۂ کار پر تفصیلی مذاکرات ہوئے ہیں اور ایران اس اہم ترین بحری گزرگاہ کے تحفظ کے لیے دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے۔