LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے: پینٹاگون بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد، کسی بھی مہم جوئی کیلئے تیار ہیں: دفتر خارجہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق

بھارت میں مذہبی آزادی پر امریکی تشویش، ارکانِ کانگریس کا ٹرمپ انتظامیہ سے بڑا مطالبہ

Web Desk

20 December 2025

بھارت میں مذہبی پابندیوں اور اقلیتوں کے خلاف اقدامات پر امریکا میں تشویش بڑھنے لگی ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان اور امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (USCIRF) کے اعلیٰ عہدیداروں نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو عالمی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت ’’خصوصی تشویش کا حامل ملک‘‘ قرار دیا جائے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، ری پبلکن رکن کانگریس وکی ہرزلر اور USCIRF کے نائب چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے اور اس پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

امریکی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مشترکہ آرٹیکل میں رہنماؤں نے لکھا کہ چین میں مذہبی پابندیوں سے دنیا واقف ہے، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا بھارت بھی مذہبی آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات کی زد میں آ چکا ہے۔

ان کے مطابق بھارتی حکومت مختلف ریاستوں میں نافذ مذہب تبدیلی کے خلاف قوانین کو مذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مذہبی رہنماؤں پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔

امریکی رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ بھارت کی 12 ریاستوں میں مذہب تبدیلی کے خلاف قوانین موجود ہیں، جنہیں مسیحی اور مسلم برادری کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ متعدد واقعات میں مذہبی کشیدگی اور تشدد سامنے آیا، جس پر حکومت اور مقامی انتظامیہ کا کردار مثبت نہیں رہا۔

آرٹیکل میں گوا کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’لو جہاد‘ جیسے متنازع تصورات کی بنیاد پر سخت قوانین کی بات کی گئی، جو محض ہندو قوم پرستانہ پروپیگنڈا ہے۔ اسی طرح اتر پردیش میں ایک مسیحی پادری اور ان کی اہلیہ پر تعلیمی و فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے زبردستی مذہب تبدیلی کے الزامات عائد کیے گئے، جو بعد ازاں بے بنیاد ثابت ہوئے۔

امریکی ارکان نے مدھیہ پردیش میں جبری مذہب تبدیلی کے الزام پر سزائے موت کی تجویز پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے منافی قرار دیا۔

امریکی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر بھارت امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اقلیتوں کے خلاف قوانین ختم کرے اور عملی طور پر مذہبی آزادی کے عالمی اصولوں کی پاسداری کرے۔ ان کے مطابق مذہبی حقوق کا احترام نہ صرف بھارت کے اندرونی استحکام بلکہ عالمی ساکھ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی مسلمان ڈاکٹر آصف محمود اس حساس امریکی کمیشن میں قیادت کے منصب پر فائز ہیں۔ ڈاکٹر آصف محمود کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے اور وہ پاکستان کے شہر کھاریاں سے امریکا منتقل ہوئے تھے۔