بھارت میں مذہبی آزادی پر امریکی تشویش، ارکانِ کانگریس کا ٹرمپ انتظامیہ سے بڑا مطالبہ
Web Desk
20 December 2025
بھارت میں مذہبی پابندیوں اور اقلیتوں کے خلاف اقدامات پر امریکا میں تشویش بڑھنے لگی ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان اور امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی (USCIRF) کے اعلیٰ عہدیداروں نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو عالمی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت ’’خصوصی تشویش کا حامل ملک‘‘ قرار دیا جائے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، ری پبلکن رکن کانگریس وکی ہرزلر اور USCIRF کے نائب چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے اور اس پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔
امریکی اخبار میں شائع ہونے والے ایک مشترکہ آرٹیکل میں رہنماؤں نے لکھا کہ چین میں مذہبی پابندیوں سے دنیا واقف ہے، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا بھارت بھی مذہبی آزادی کے حوالے سے سنگین سوالات کی زد میں آ چکا ہے۔
ان کے مطابق بھارتی حکومت مختلف ریاستوں میں نافذ مذہب تبدیلی کے خلاف قوانین کو مذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ مذہبی رہنماؤں پر بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔
امریکی رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ بھارت کی 12 ریاستوں میں مذہب تبدیلی کے خلاف قوانین موجود ہیں، جنہیں مسیحی اور مسلم برادری کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ متعدد واقعات میں مذہبی کشیدگی اور تشدد سامنے آیا، جس پر حکومت اور مقامی انتظامیہ کا کردار مثبت نہیں رہا۔
آرٹیکل میں گوا کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ ’لو جہاد‘ جیسے متنازع تصورات کی بنیاد پر سخت قوانین کی بات کی گئی، جو محض ہندو قوم پرستانہ پروپیگنڈا ہے۔ اسی طرح اتر پردیش میں ایک مسیحی پادری اور ان کی اہلیہ پر تعلیمی و فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے زبردستی مذہب تبدیلی کے الزامات عائد کیے گئے، جو بعد ازاں بے بنیاد ثابت ہوئے۔
امریکی ارکان نے مدھیہ پردیش میں جبری مذہب تبدیلی کے الزام پر سزائے موت کی تجویز پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے منافی قرار دیا۔
امریکی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر بھارت امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اقلیتوں کے خلاف قوانین ختم کرے اور عملی طور پر مذہبی آزادی کے عالمی اصولوں کی پاسداری کرے۔ ان کے مطابق مذہبی حقوق کا احترام نہ صرف بھارت کے اندرونی استحکام بلکہ عالمی ساکھ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی نژاد امریکی مسلمان ڈاکٹر آصف محمود اس حساس امریکی کمیشن میں قیادت کے منصب پر فائز ہیں۔ ڈاکٹر آصف محمود کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے اور وہ پاکستان کے شہر کھاریاں سے امریکا منتقل ہوئے تھے۔
متعلقہ عنوانات
ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک، 624 زخمی ہوئے: پینٹاگون
27 July 2026
بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد، کسی بھی مہم جوئی کیلئے تیار ہیں: دفتر خارجہ
27 July 2026
ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری، خودمختاری کا دفاع ترجیح ہے: ایران
27 July 2026
حوثی حملوں کے بعد باب المندب میں جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی
27 July 2026
نیتن یاہو عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹ سے بچنے کیلئے امریکا کو استعمال کر رہے ہیں، ایران
27 July 2026
گولہ بارود اور ہتھیاروں کا ذخیرہ موجودہ ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، ٹرمپ
27 July 2026
ایران امریکا جنگ میں وقفے سے خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی
27 July 2026
آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا
27 July 2026