LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

نئی آٹو پالیسی، ہائبرڈ گاڑیوں کی پیداوار بند ہونے کا انکشاف

Web Desk

22 July 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ نئی آٹو پالیسی اور ٹیرف کا تعین نہ ہونے کے باعث گزشتہ 22 روز سے ملک بھر میں ہائبرڈ (Hybrid) اور پلگ اِن ہائبرڈ (Plug-in Hybrid) گاڑیوں کی پیداوار مکمل طور پر ٹھپ ہے۔ سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں آٹو انڈسٹری کے نمائندے نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال مزید 7 دن جاری رہی تو کمپنیوں کے لیے ملازمین کو تنخواہیں دینا ناگزیر حد تک مشکل ہو جائے گا۔ اس مسئلے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے یقین دہانی کرائی کہ ٹیرف پالیسی بورڈ کا ہنگامی اجلاس بلا کر نئی پالیسی فائنل ہوتے ہی یہ معاملہ حل کر لیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران نئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (EPZs) کے قیام اور برآمدی کوٹہ سے متعلق بھی اہم بریفنگ دی گئی۔ وزارتِ صنعت و پیداوار کے حکام نے بتایا کہ نئے ای پی زیڈز کے قیام پر پابندی کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے اور ٹیرف ایریا کو دیا جانے والا برآمدی کوٹہ ختم کرنے کی تجویز ایف بی آر کو بھیج دی گئی ہے، جس پر ستمبر 2026 تک عملدرآمد کی سفارش کی گئی ہے۔ حکام نے انکشاف کیا کہ یہ اقدامات وزارتِ صنعت کے نہیں بلکہ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ ہیں، کیونکہ آئی ایم ایف کو تحفظات تھے کہ ان زونز کی کمپنیاں ٹیکسز ادا نہیں کرتیں۔

اجلاس میں موجود صنعتکاروں نے آئی ایم ایف کے حوالے سے حکام کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس تحریری ثبوت موجود ہیں کہ ای پی زیڈز پر پابندی آئی ایم ایف کا مطالبات میں شامل نہیں ہے۔ صنعتکاروں نے برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے ای پی زیڈ مراعات کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ اس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے ہدایت کی کہ وزارت صنعت اور آئی ایم ایف کے ساتھ مل بیٹھ کر معاملات طے کیے جائیں اور انڈسٹری کے مسائل کا فوری اور پائیدار حل نکالا جائے۔