LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے جاری، 4 سالہ بچے سمیت 2 افراد شہید، 7 زخمی ترکیہ کے ساتھ جنگ کی کوششیں، اسرائیلی اخبار کی نیتن یاہو پر تنقید چین کے 2 بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ایرانی علاقے میں داخل ہو گئے ہتھیاروں کی فراہمی سے برطانیہ، فرانس بھی اسرائیلی جرائم میں شریک ہو رہے ہیں: ایران ایران کیخلاف امریکی جنگ کے اخراجات یومیہ 5 ارب ڈالر تک جا پہنچے ایران آئندہ 50 برسوں کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے، جنرل ابن الرضا دفاعی صنعت جدید ہتھیاروں کے نظام اور فوجی سازوسامان تیار کر رہی ہے، ایرانی وزارت دفاع امریکا کا ایران پر نیا معاشی دباؤ فوجی محاذ پر ناکامی کا بالواسطہ اعتراف ہے، پاسداران انقلاب ’’منجمد خارجہ پالیسی، منجمد معیشت کو جنم دیتی ہے‘‘، ایرانی سپیکر کا امریکی پالیسی پر طنزیہ وار صدر مملکت سے سعودی سفیر کی الوداعی ملاقات، عوامی محبت و تعاون پر اظہار تشکر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے

نئی آٹو پالیسی، ہائبرڈ گاڑیوں کی پیداوار بند ہونے کا انکشاف

Web Desk

22 July 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ نئی آٹو پالیسی اور ٹیرف کا تعین نہ ہونے کے باعث گزشتہ 22 روز سے ملک بھر میں ہائبرڈ (Hybrid) اور پلگ اِن ہائبرڈ (Plug-in Hybrid) گاڑیوں کی پیداوار مکمل طور پر ٹھپ ہے۔ سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں آٹو انڈسٹری کے نمائندے نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال مزید 7 دن جاری رہی تو کمپنیوں کے لیے ملازمین کو تنخواہیں دینا ناگزیر حد تک مشکل ہو جائے گا۔ اس مسئلے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے یقین دہانی کرائی کہ ٹیرف پالیسی بورڈ کا ہنگامی اجلاس بلا کر نئی پالیسی فائنل ہوتے ہی یہ معاملہ حل کر لیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران نئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (EPZs) کے قیام اور برآمدی کوٹہ سے متعلق بھی اہم بریفنگ دی گئی۔ وزارتِ صنعت و پیداوار کے حکام نے بتایا کہ نئے ای پی زیڈز کے قیام پر پابندی کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے اور ٹیرف ایریا کو دیا جانے والا برآمدی کوٹہ ختم کرنے کی تجویز ایف بی آر کو بھیج دی گئی ہے، جس پر ستمبر 2026 تک عملدرآمد کی سفارش کی گئی ہے۔ حکام نے انکشاف کیا کہ یہ اقدامات وزارتِ صنعت کے نہیں بلکہ عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ ہیں، کیونکہ آئی ایم ایف کو تحفظات تھے کہ ان زونز کی کمپنیاں ٹیکسز ادا نہیں کرتیں۔

اجلاس میں موجود صنعتکاروں نے آئی ایم ایف کے حوالے سے حکام کے موقف کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس تحریری ثبوت موجود ہیں کہ ای پی زیڈز پر پابندی آئی ایم ایف کا مطالبات میں شامل نہیں ہے۔ صنعتکاروں نے برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے ای پی زیڈ مراعات کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔ اس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے ہدایت کی کہ وزارت صنعت اور آئی ایم ایف کے ساتھ مل بیٹھ کر معاملات طے کیے جائیں اور انڈسٹری کے مسائل کا فوری اور پائیدار حل نکالا جائے۔