LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

فرانس میں فراری چلانے والا شخص بظاہر بےروزگار اور کنگال

Web Desk

17 February 2026

فرانس، ووکلیز: حال ہی میں فرانسیسی پولیس نے ایک سرخ فیراری فورٹوفینو تقریباً 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے والے شخص کو روکا، تو انہیں حیرت ہوئی کہ ڈرائیور ایک بےگھر اور نادار شخص تھا جو سرکاری امداد پر گزارا کر رہا تھا۔

پوچھ گچھ کے دوران اس شخص نے بتایا کہ اس کے پاس نہ ملازمت ہے، نہ کوئی اثاثہ اور نہ کوئی ذریعہ آمدنی ہے، حالانکہ وہ تقریبا 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر مالیت کی فیراری چلا رہا تھا۔

ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ یہ شخص کئی سالوں سے سرکاری ویلفیئر سے حاصل ہونے والی آمدنی پر گزارا کر رہا تھا۔ جب گاڑی کے بارے میں پوچھا گیا، تو اس نے کہا کہ یہ اس کی والدہ کی ہے، تاہم ریکارڈ سے پتہ چلا کہ گاڑی ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی کے نام رجسٹرڈ تھی جسے وہ، اس کی والدہ اور دو بہن بھائی چلا رہے تھے۔

بعد ازاں تفتیش میں انکشاف ہوا کہ خاندان نے حکومتی فنڈز ہتھیانے اور آمدنی ظاہر نہ کرنے کے ذریعے ٹیکس سے بچنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس دھوکہ دہی کے نتیجے میں یہ خاندان پُرتعیش زندگی گزار رہا تھا، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں وہ بےروزگار اور دیوالیہ تھے اور اسی وجہ سے انہیں سرکاری مالی امداد مل رہی تھی۔

مجموعی طور پر دھوکہ بازوں نے سماجی مراعات کی مد میں کم از کم 1.8 ملین یورو کا غبن کیا، اور اس کے علاوہ 1.6 ملین یورو (1.9 ملین ڈالر) غیر ظاہر شدہ آمدنی حاصل کی۔ بعد ازاں پولیس نے اس خاندان کے تمام افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔