LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب کے مختلف تعلیمی بورڈز میں پوزیشن ہولڈرز کا اعلان، طالبات نمایاں رہیں فلسطین کی آزادی کے لیے عرب اور مسلم ممالک متحد ہوں: اسحاق ڈار وزیراعظم سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، معاشی اصلاحات کے فروغ پر اتفاق وزیراعظم کی پرائیویٹائزیشن کمیشن کی تنظیمِ نو 01 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف کارروائیاں بڑھانے پر اتفاق، مشترکہ اعلامیہ جاری مریم نواز سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق 5 اگست 2019 ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، حافظ نعیم اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات کا نیا دور شروع اسحاق ڈار یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن پہنچ گئے کوئی طاقت کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت ختم نہیں کر سکتی، مشعال ملک امریکا نے طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کا پورا ذخیرہ استعمال کر لیا 5اگست2019، کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا سیاہ باب آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کو سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ دبئی کے مشہور ہیومنائڈ روبوٹ ’بو سنیدہ‘ نے’موزہ‘ نامی روبوٹ سے شادی کر لی ایران اور امریکا 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے: امریکی نشریاتی ادارے کا دعویٰ

فرانس میں فراری چلانے والا شخص بظاہر بےروزگار اور کنگال

Web Desk

17 February 2026

فرانس، ووکلیز: حال ہی میں فرانسیسی پولیس نے ایک سرخ فیراری فورٹوفینو تقریباً 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے والے شخص کو روکا، تو انہیں حیرت ہوئی کہ ڈرائیور ایک بےگھر اور نادار شخص تھا جو سرکاری امداد پر گزارا کر رہا تھا۔

پوچھ گچھ کے دوران اس شخص نے بتایا کہ اس کے پاس نہ ملازمت ہے، نہ کوئی اثاثہ اور نہ کوئی ذریعہ آمدنی ہے، حالانکہ وہ تقریبا 2 لاکھ 50 ہزار ڈالر مالیت کی فیراری چلا رہا تھا۔

ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ یہ شخص کئی سالوں سے سرکاری ویلفیئر سے حاصل ہونے والی آمدنی پر گزارا کر رہا تھا۔ جب گاڑی کے بارے میں پوچھا گیا، تو اس نے کہا کہ یہ اس کی والدہ کی ہے، تاہم ریکارڈ سے پتہ چلا کہ گاڑی ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی کے نام رجسٹرڈ تھی جسے وہ، اس کی والدہ اور دو بہن بھائی چلا رہے تھے۔

بعد ازاں تفتیش میں انکشاف ہوا کہ خاندان نے حکومتی فنڈز ہتھیانے اور آمدنی ظاہر نہ کرنے کے ذریعے ٹیکس سے بچنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس دھوکہ دہی کے نتیجے میں یہ خاندان پُرتعیش زندگی گزار رہا تھا، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں وہ بےروزگار اور دیوالیہ تھے اور اسی وجہ سے انہیں سرکاری مالی امداد مل رہی تھی۔

مجموعی طور پر دھوکہ بازوں نے سماجی مراعات کی مد میں کم از کم 1.8 ملین یورو کا غبن کیا، اور اس کے علاوہ 1.6 ملین یورو (1.9 ملین ڈالر) غیر ظاہر شدہ آمدنی حاصل کی۔ بعد ازاں پولیس نے اس خاندان کے تمام افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔