LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

اہرام مصر کی تعمیر کا صدیوں پرانا راز جدید تحقیق سے بے نقاب

Web Desk

31 January 2026

مصر کے عظیم اہرام صدیوں سے انسانی ذہن کو حیران کر رہے ہیں، خاص طور پر یہ سوال کہ لاکھوں ٹن وزنی پتھروں کو بغیر جدید مشینری کے کیسے اوپر پہنچایا گیا۔ حالیہ تحقیق نے اس راز کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع تحقیق کے مطابق ہرم کی تعمیر میں طویل بیرونی ڈھلوانوں کا استعمال نہیں ہوا، بلکہ ہرم کے اندر ایک پیچیدہ اور منظم مکینیکل نظام موجود تھا۔ اس نظام میں مضبوط رسیاں، لکڑی کے شہتیر، اور چرخی نما آلات شامل تھے، جن کی مدد سے بھاری پتھروں کو بتدریج اوپر منتقل کیا جاتا تھا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ہرم کی اندرونی راہداریوں، عظیم گیلری اور چڑھنے والے راستوں کو دراصل اندرونی ڈھلوان کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس نظام کی مدد سے 60 ٹن تک وزنی پتھر کم سے کم انسانی محنت سے اوپر پہنچائے جا سکتے تھے۔

نیویارک کے وائل کارنیل میڈیکل کالج کے ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ کے مطابق ہرم کے اندر موجود چھوٹا گرینائٹ کمرہ، جو ماضی میں حفاظتی مقصد کے لیے بنایا گیا سمجھا جاتا تھا، دراصل تعمیراتی نظام کا مرکزی حصہ تھا۔ کمرے کے فرش پر موجود خراشیں اور بے قاعدگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں ایک ستون نصب کیا گیا تھا، جسے تعمیر مکمل ہونے کے بعد ہٹا دیا گیا۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ عظیم ہرم کی تعمیر تقریباً 20 برس میں مکمل ہوئی، اور اس دوران اوسطاً ہر منٹ میں ایک پتھر نصب کیا جاتا رہا، جو بیرونی ڈھلوان کے نظریے سے ممکن نہیں تھا۔ اگر یہ تحقیق درست ثابت ہوتی ہے تو قدیم مصر کی انجینئرنگ مہارت کے بارے میں دنیا کو اپنے تصورات پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔