LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ستھرا پنجاب بہترین منصوبہ، بدعنوانی یا غفلت برداشت نہیں ہوگی: مریم نواز ایران اور امریکہ کے درمیان سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے: بلاول بھٹو پاکستان میں ایڈز کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ مریضوں کی تعداد 84 ہزار تک پہنچ گئی پاکستان کا تجارتی خسارہ 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا؛ برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ وزیراعظم کی امارات میں میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت، جنگ بندی کے احترام کا مطالبہ امریکہ کیلئے صورتحال ناقابل برداشت، آبنائے ہرمز میں شرارت ختم ہو جائے گی: باقر قالیباف وزیراعظم شہباز شریف کی ترکیہ میں تباہ کن سیلاب پر ترک صدر و عوام سے تعزیت سندھ کابینہ کے بڑے فیصلے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے اربوں روپے کی منظوری گوادر بندرگاہ پر مئی کا پہلا ٹرانس شپمنٹ کارگو جہاز لنگر انداز چین: آتش بازی کا سامان بنانے والی فیکٹری میں دھماکے سے 21 ہلاک، 61 زخمی چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا ادریس قاتلانہ حملے میں جاں بحق جے ڈی وینس کے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، ملزم ہلاک یو اے ای کی فجیرہ بندرگاہ پر ہیکر گروپ حندلہ نے سائبر آپریشن کیا، ایرانی میڈیا ایرانی حملوں کا بھرپور جواب، میزائل اور ڈرون تباہ، اماراتی وزارتِ دفاع کا بیان جاری پاکستان میں اپریل کے دوران تجارتی خسارہ 43 فیصد سے زائد بڑھ گیا

اہرام مصر کی تعمیر کا صدیوں پرانا راز جدید تحقیق سے بے نقاب

Web Desk

31 January 2026

مصر کے عظیم اہرام صدیوں سے انسانی ذہن کو حیران کر رہے ہیں، خاص طور پر یہ سوال کہ لاکھوں ٹن وزنی پتھروں کو بغیر جدید مشینری کے کیسے اوپر پہنچایا گیا۔ حالیہ تحقیق نے اس راز کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر میں شائع تحقیق کے مطابق ہرم کی تعمیر میں طویل بیرونی ڈھلوانوں کا استعمال نہیں ہوا، بلکہ ہرم کے اندر ایک پیچیدہ اور منظم مکینیکل نظام موجود تھا۔ اس نظام میں مضبوط رسیاں، لکڑی کے شہتیر، اور چرخی نما آلات شامل تھے، جن کی مدد سے بھاری پتھروں کو بتدریج اوپر منتقل کیا جاتا تھا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ہرم کی اندرونی راہداریوں، عظیم گیلری اور چڑھنے والے راستوں کو دراصل اندرونی ڈھلوان کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اس نظام کی مدد سے 60 ٹن تک وزنی پتھر کم سے کم انسانی محنت سے اوپر پہنچائے جا سکتے تھے۔

نیویارک کے وائل کارنیل میڈیکل کالج کے ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ کے مطابق ہرم کے اندر موجود چھوٹا گرینائٹ کمرہ، جو ماضی میں حفاظتی مقصد کے لیے بنایا گیا سمجھا جاتا تھا، دراصل تعمیراتی نظام کا مرکزی حصہ تھا۔ کمرے کے فرش پر موجود خراشیں اور بے قاعدگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں ایک ستون نصب کیا گیا تھا، جسے تعمیر مکمل ہونے کے بعد ہٹا دیا گیا۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ عظیم ہرم کی تعمیر تقریباً 20 برس میں مکمل ہوئی، اور اس دوران اوسطاً ہر منٹ میں ایک پتھر نصب کیا جاتا رہا، جو بیرونی ڈھلوان کے نظریے سے ممکن نہیں تھا۔ اگر یہ تحقیق درست ثابت ہوتی ہے تو قدیم مصر کی انجینئرنگ مہارت کے بارے میں دنیا کو اپنے تصورات پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔